ابنا: اسرائیل کے وزير اعظم نیتن یاہو نے عراق کی تقسیم اورعراق میں جاری بحران پر خوشحالی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل عراق کی تقسیم کا خیر مقدم کرتا ہے ادھر عراقی کردستان کے کرد رہنما مسعود بارزانی نے کہا ہے کہ وہ کردستان کےمیں استقلال کے بارے میں عوامی ریفرنڈم کرائیں گے۔ عراق کے علاقے کردستان کے رہنما مسعود بارزانی نے کہا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں اپنے علاقے میں ایک آزاد ملک کے لیے ریفرینڈم کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔عراق کے کرد رہنما مسعود بارزانی نے کہا کہ عراق حقیقت میں پہلے ہی تقسیم ہو چکا ہے ۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے بھی عراق میں داعش دہشت گردوں کی کارروائی کے بعد کردستان کے خودمختار اور آزاد ملک کے قیام کی بات کی تھی۔تل ابیب میں ایک خطاب کے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’کردوں کی قوم ہے انھوں نے اپنے سیاسی عہد کی پاسداری کا ثبوت دیا ہے اور وہ آزادی کے مستحق ہیں۔گذشتہ ہفتے مسعود بارزانی نے ایک امریکی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: اب وقت آ چکا ہے کہ کردستان کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
مبصرین کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے پہلی ہی عرب ممالک کو چھوٹی چھوٹی خلیجی ریاستوں میں تقسیم کررکھا ہے اور اب وہ عراق کو تقسیم کرکے اپنے شوم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں ۔
عراقی عوام عراق کی تقسیم کے خلاف ہیں جو کردستان کی علیحدگی کی مخالفت کریں گے جس کے نتیجے میں عراق میں ایک اور جنگ چھڑنے کا امکان ہے جبکہ موجودہ عراق میں کردوں کو صدر کا عہدہ دیا گیا ہے اور عراقی حکومت میں کردوں اور اہلسنت کی اچھی نمائندگی موجود ہے عراق کے موجودہ وزیر خارجہ کرد ہیں صدر کرد ہیں پارلیمنٹ اسپیکر عرب سنی ہیں وزیردفاع سنی ہیں لیکن اسرائیل کا منصوبہ کچھ اور ہی ہے لہذا کردوں کو عراق سے الگ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
.......
/169