29 جون 2014 - 12:02
عراق، دہشت گردوں کے پاس اب دو ہی راستے ہیں، مارے جائیں یا فرار ہو جائیں

عراقی فوج نے ملک کے شمالی شہر تکریت میں تکفیری دہشت گروہ داعش کے خلاف کارروائی میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

ابنا: عراق میں فوجی حکام کے مطابق ملک کے شمالی شہر تکریت میں بری فوج اور ہیلی کاپٹروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراقی فوج کی مدد حکومت کے اتحادی سنی قبائل رضاکار جوان کر رہے ہیں۔

مغربی صوبۂ الانبار میں عراقی فضائیہ نے داعش کے ٹھکانوں کو ہدف قرار دیا اور بڑی تعداد میں دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑیوں کو نیست و نابود کر دیا۔

ریاستی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ فوج نے تکریت میں گورنر کے ہیڈ کوارٹر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور داعش کے 60 جنگجوؤں ہلاک ہوئے ہیں۔

فوجی کارروائی میں دہشت گردوں کے ایک اڈے کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے وہ دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے تھے۔

عراقی سیکورٹی فورسز نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ رمضان المبارک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

عراقی فوج نے داعش کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے، جس کے بعد سے دہشت گرد فرار ہو کر ایرانی سرحد سے نزدیک پہاڑوں میں چھپ رہے ہیں۔

عراقی فوج کے ترجمان جنرل قاسم عطا نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ تکریت میں ان شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا جویونیورسٹی کمپیس میں موجود فوج کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گردوں کے پاس اب دو ہی راستے ہیں یا مارے جائیں یا فرار ہو جائیں۔

.......

/169