ابنا: عراق کے صوبہ صلاح الدین کی سکیورٹی کمیٹی کے رکن خالد الجسام نے کہا ہے کہ ان عورتوں کی عصمت دری کے بعد انھیں بے دردی سے قتل کردیا گیا اور گذشتہ تین ہفتوں میں تکفیری دھشت گروہ داعش نے اس قسم کی کئی کاروائیاں کی ہیں جبکہ اجتماعی طور پر پھانسی دینا اس گروہ کے دوسرے غیر انسانی اقدامات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دھشت گروہ داعش نے جون کے مہینے میں سوشل میڈیا میں اجتماعی طور پر پھانسی دئیے جانے کی کئی تصویریں شائع کیں جس کی انسانی حقوق نے نہ صرف مذمت کی بلکہ اپنے بیان میں کہا کہ شائع ہونے والی تصویریں بتا رہی ہیں کہ11جون کو دھشت گروہ داعش نے تکریت پر حملہ کرنے کے بعد اس علاقے کے عوام کو اجتماعی طور پر پھانسی دی ۔ خبری ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق تکفیری اور بعثی دھشت گروہ داعش نے11اور14جون 2014 کو160 سے 190 افراد کوپھانسی دی۔ اس کے علاوہ اس گروہ نے کئی دکانوں، مکانوں اور تجارتی مراکز کو بھی آگ لگا ئی اور سکیورٹی فورسز پر بھی حملے کئے جبکہ کل جمعرات کو بھی دھشت گروہ داعش نےبعقوبہ شہرمیں ایسے افراد کی دکانوں اورتین تجارتی مراکز کو آگ لگا دی جنہوں نے داعش کو بھتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جبکہ موصل شہر میں بھی تکفیری دھشتگروہ داعش نے اسی قسم کی لوٹ مار کی۔ عراق کے صوبے نینوا کے آفیسرفریڈم تحریک کا کہنا ہے کہ تکفیری دھشتگروہ داعش نے موصل شہرمیں سونے کی 12دکانوں کو لوٹ لیا اور اس کی تائید ذرائع ابلاغ نے بھی کرتے ہوئے کہا کہ شہرمیں سونے کی 12دکانوں کو لوٹنے میں تکفیری دھشتگروہ داعش کے دوسرے دھشتگردوں کے ساتھ ساتھ مراکش سے تعلق رکھنے والےتکفیری دھشتگروہ داعش کے کرتا دھرتا ابوزیدالمھاجربھی شامل تھا جسے نینوا کے آفیسرفریڈم تحریک کے کارکنوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اس واقعہ کے بعد نینوا صوبے کے مقامی رہنماوں نے اس صوبے کے عوام سے کہا ہے کہ وہ تکفیری دھشتگروہ داعش کا جن کے دھشتگردوں کا تعلق مراکش، افغانستان، مصر اور تیونس سے ہے مقابلہ کریں ۔ حالیہ دنوں میں عراق کے مختلف علاقوں کے عوام نے تکفیری دھشتگروہ داعش سے مقابلہ کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے نام لکھوائے جبکہ اس وقت عراق کے شیعہ اور سنی قبائل تکفیری دھشتگروہ داعش کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں دھشتگرد ہلاک ہوئے اور کئی علاقوں سے وہ فرار کر گئے۔ اس درمیان عراق کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ صلاح الدین کے علاقے العلم پر ان کاکنٹرول ہو گیا ہے۔ جبکہ سامرا کی جانب جانے والی بلد شہر کی شاہراہ کو بھی تکفیریوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں عراقی اور امریکی حکام کے مابین بھی رابطے بڑھ گئے ہیں اورعراقی وزارت دفاع کے قائم مقام سعدون الدلیمی نے گذشتہ دنوں امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برٹ میک گورک اور عراق میں امریکی سفیررابرٹ اسٹیفن سے ملاقات کی جبکہ اس سے قبل امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری سے بغداد میں انہوں نے ملاقات کی تھی ۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے وزیر جارجہ ویلیم ھیگ نے بھی عراق کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس ملک کا دورہ کیا۔
عراق کی موجودہ صورتحال سے بخوبی دکھائی دے رہا ہے کہ اس ملک کے حالات کو خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے اورعراق میں سیکڑوں سعودی دھشتگردوں کی موجودگی اس بات کی تائید ہے کہ سعودی عرب اس ملک کے داخلی امور میں کھل کر مداخلت کر رہا ہے۔ جبکہ بعض سیاسی حلقوں نے عراق کی موجودہ صورتحال کو خراب کرنے کے حوالے سے واشنگٹن کے کردار سے پردہ اٹھایا ہےاوریہ بات بھی اب روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ داعش کو بنانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے جس کی تائید امریکہ کے سیاسی امور کے ماہرڈنی پٹریک ولچ کی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ علاقے میں داعش کی سرگرمیاں امریکہ کی وجہ سے ہیں ۔
.......
/169