ابنا: آج اٹھّائیس جون کی تاریخ ایران کی عدلیہ کے سابق سربراہ آیۃ اللہ محمد حسین بہشتی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رہ کے بہّتر ساتھیوں کی برسی سے مناسبت رکھتی ہے۔اٹھّا ئیس جون سنہ انیّس سو اکیاسی کو دارالحکومت تہران میں حزب جمہوری اسلامی کے اجتماع ہال میں ہونے والے ایک زوردار بم دھماکے میں ایران کی عدلیہ کے سابق سربراہ آیۃ اللہ محمد حسین بہشتی درجنوں اہم سیاسی و مذہبی شخصیات کے ہمراہ شہید ہوگئے تھے۔ تہران میں ہونے والا یہ شدید بم دھماکہ، ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد منافقین کے دہشتگرد گروہ کا، کوئی پہلا وحشیانہ اقدام نہیں تھا۔ ان منافقین کا یہ دہشتگردانہ اقدام، تہران کی مسجد ابوذر میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے صرف ایک روز بعد انجام پایا۔ ایرانی کیلینڈر کے اعتبار سے سات تیر کو رونما ہونے والے دہشتگردی کے اس شرمناک واقعے میں آیۃ اللہ بہشتی، دیگر بہتّر شخصیات منجملہ چار وزراء، کئی نائب وزراء، مجلس شورائے اسلامی کے ستّائیس نمائندے اور حزب جمہوری اسلامی کے متعدد اراکین شہید ہوگئے تھے۔ آیۃ اللہ بہشتی کی شہادت پر اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رہ نے اپنے ایک پیغام میں فرمایا تھا کہ بہشتی نے مظلومانہ زندگی بسر کی اور مظلومانہ طور ہی شہید ہوئے اور وہ دشمنان اسلام کی آنکھوں کا کانٹا بنے ہوئے تھے۔
.......
/169