24 جون 2014 - 15:46
داعش کے دہشت گرد گرلز کالجوں میں کیا تلاش کر رہے ہیں ؟

دولت الاسلامیہ فی العراق و الشام داعش کے دہشت گرد موصل کے گرلز کالجوں کی فائلیں كھنگال رہے ہیں۔

ابنا: عراق میں داعش کے دہشت گرد غیر شادی شدہ لڑکیوں کو تلاش کرنے کے لئے موصل کے اسکولوں کی فائلوں کو كھنگال رہے ہیں تاکہ انہیں جہاد النکاح کے لئے استعمال کریں۔

عین العراق ویب سائٹ کے مطابق عراق کے نینوا صوبے کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ دولت الاسلامیہ فی العراق و الشام کے دہشت گردوں نے موصل کے زیادہ تر ہائی اسکولوں میں طالبات کی فائلوں کی چھان بین کی تاکہ غیر شادی شدہ طالبات کا پتہ لگائیں اور انہیں داعش کے ارکان کے سامنے پیش کریں۔

اس باخبر ذریعے کے مطابق داعش نے اس سے پہلے موصل کے باشندوں سے اپنی اپنی بیٹیاں اس گروپ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انجام بھگتنے کی دھمکی دی تھی۔

برطانوی اخبار انڈپینڈینٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ جہاں ایک طرف بیجی میں آئل رفائنري کے آس پاس عراقی فوج اور داعش کے دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہے، بیجی کے شہری داعش کے ارکان کی طرف سے اس شہر میں غیر شادی شدہ اور شادی شدہ لڑکیوں کو تلاش کرنے کے لئے لوگوں کے گھروں کی تلاشی لئے جانے سے خوفزدہ ہیں۔
بیجی کے شہری ابو لہید نے انڈپینڈینٹ کو بتایا کہ میں نے ان سے کہا کہ میرے گھر میں صرف دو بیٹیاں ہیں دونوں کی شادی ہو چکی ہے لیکن داعش کے ارکان نے کہا کہ بہت سے مجاہدین نے شادی نہیں کی ہے۔ انہیں شادی کرنا ہے۔ وہ گھر میں گھسنا چاہتے تھے تاکہ میری بیٹیوں کے شناختی کارڈ دیکھیں جس سے یہ پتہ چل سکے کہ ان کی شادی ہوئی ہے یا نہیں۔

.......

/169