17 جون 2014 - 13:50
 اہلسنّت کی 30 جماعتوں نے دہشتگردوں کیخلاف فوجی آپریشن کی حمایت کردی

ہنگامی اجلاس سے خطاب میں چیئرمین سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے اور وزیرستان کے علاوہ ملک بھر میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بھی کریک ڈاؤن کیا جائے۔

ابنا: سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام منعقد ہونے والے اہلسنّت جماعتوں کے مشترکہ ہنگامی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اہلسنّت کی 30 جماعتیں ریاست مخالف دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کرتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جہاد میں پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔ ریاست کے باغیوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ خوش آئند اور پوری قوم کے دل کی آواز ہے۔ اہلسنّت جماعتیں غدارانِ پاکستان کی سرکوبی کی فیصلہ کن جنگ لڑنے والی پاک فوج کے حق میں ملک گیر مہم چلائیں گی۔ مساجد میں آپریشن کی کامیابی اور ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگی جائیں گی اور جمعہ کے اجتماعات میں آپریشن اور پاک فوج کی حمایت میں قراردادیں منظور کی جائیں گی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اسلامی، قانونی اور اخلاقی لحاظ سے جائز ہے۔ وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی رہائش، خوراک اور علاج معالجے کا بندوبست کیا جائے۔

یہ بات سنی اتحاد کونسل کی دعوت پر جامعہ رضویہ مظہرالاسلام میں منعقدہ 30 اہلسنّت جماعتوں کے ہنگامی مشترکہ اجلاس کے اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کی جبکہ اجلاس میں سنی اتحاد کونسل، جماعت اہلسنّت، مرکزی جے یو پی، انجمن طلبائے اسلام، پاکستان فلاح پارٹی، مصطفائی تحریک، تحفظِ ناموسِ رسالت محاذ، انجمن نوجوانانِ اسلام، سنی علماء بورڈ، مشائخ اہلسنّت کونسل، رُشد الایمان فاؤنڈیشن، تحریک فروغِ اسلام، سنی تنظیم القرآء، تاجدارِ ختمِ نبوّت فاؤنڈیشن، سپاہِ مصطفٰی، مرکزی بزمِ مشتاقانِ رسول، نعیمین ایسوسی ایشن، مرکزی مجلس چشتیہ، مصطفائی جسٹس فورم، تحریکِ نفاذ فقہ حنفیہ، انجمن طلباء مدارس عربیہ، سنی یوتھ ونگ، سنی فاؤنڈیشن اور دیگر جماعتوں کے مرکزی راہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے اور وزیرستان کے علاوہ ملک بھر میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بھی کریک ڈاؤن کیا جائے۔ آپریشن کی کامیابی کے لیے دہشت گردوں کے حامیوں، سرپرستوں اور ہمدردوں کو بھی ریاستی گرفت میں لانا ضروری ہے۔ طالبان نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مستقل امن کے لیے جنگ ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کا قومی جہاد شروع ہوگیا ہے۔ ہر محب وطن پاکستانی ملک بچانے کے اس جہاد میں شریک ہوجائے۔ مرکزی جے یو پی کے سربراہ علامہ محمد شریف رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپریشن کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں بچا تھا۔ آپریشن کی مخالفت کرنے والے ملک سے غداری کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کے حامی قومی مجرم ہیں۔ انجمن نوجوانانِ اسلام کے سرپرست اعلٰی اور سنی اتحاد کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل طارق محبوب صدیقی نے کہا کہ پوری قوم آپریشن کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔ دہشت گردوں کی ناکامی اور پاک فوج کی کامیابی نوشتۂ دیوار ہے۔ بارود والوں کا انجام قریب ہے۔ اب ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔

جماعت اہلسنّت پنجاب کے صدر مفتی محمد اقبال چشتی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں پاک فوج تنہا نہیں ہے۔ قوم کا بچہ بچہ پاک فوج کی پشت پر کھڑا ہے۔ مزارات، مساجد، مارکیٹوں، ہسپتالوں، جنازوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والے رحم کے مستحق نہیں۔ اجلاس میں مفتی محمد سعید رضوی، صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی، مولانا محمد علی نقشبندی، علامہ مشتاق احمد نوری، رائے صلاح الدین کھرل ایڈووکیٹ، صاحبزادہ حسن رضا، پیر طارق ولی چشتی، محمد اکرم رضوی، میاں فہیم اختر، مولانا محمد اکبر نقشبندی، مولانا غلام سرور حیدری، مفتی محمد حسین صدیقی، مفتی محمد رمضان جامی، صاحبزادہ مطلوب رضا، مفتی محمد حسیب قادری، مفتی محمد کریم خان، حاجی رانا شرافت علی قادری، بیرسٹر صاحبزادہ حسین رضا، حافظ زاہد رازی، مفتی محمد یونس، علامہ شرافت علی، صاحبزادہ حمید الدین رضوی، شیخ محمد ذوالفقار رضوی، الحاج سرفراز احمد تارڑ اور دوسرے راہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث مدارس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دہشت گردوں کی حمایت کو سنگین ترین جرم قرار دیا جائے۔ دہشت گردوں کی بیرونی فنڈنگ اور غیر ملکی رابطے ختم کئے جائیں۔

.......

/169