ابنا: رپورٹ کے مطابق، عباس عراقچي نے سوئزرلینڈ کے جنیوا شہر میں تہران - واشنگٹن مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر ارنا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ مذاکرات کا یہ پہلا مرحلہ بامعنی اور مثبت ماحول میں منعقد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پیر کی شام ہونے والے یہ مذاکرات پانچ گھنٹے تک جاری رہے اور اس میں یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرن ایشٹن کی معاون ہیلگا اشمتھ بھی موجود تھیں۔
عراقچي نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یہ مذاکرات منگل کو بھی جاری رہے گے، کہا کہ پہلے مرحلے میں، جوہری مذاکرات میں پیش کئے جانے والے موضوعات کے بارے میں مشورہ کیا گیا۔ مذاکرات میں امریکہ کے دو نائب وزیر خارجہ ولیم برنز اور ونڈي شرمن اور امریکی قومی سلامتی کونسل کے مشیر رابرٹ مالينے بھی شریک تھے۔
اس درمیان سینئر جوہری مذاکرات عباس عراقچي نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے ہتھیاروں اور ميزائیلو کے بارے میں جوہری مذاکرات میں کسی بھی قسم کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اس کے دفاعی امور سے مربوط کسی بھی موضوع پر بات چیت ممکن نہیں ہے اور ایران کی مذاکرات کار ٹیم ایٹمی معاملے میں مد مقابل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے سامنے ڈٹي ہوئی ہے۔
.......
/169