اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔۔ ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق جنيوا ميں ايران اور امريکا کے درميان مذاکرات، ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان ہونےوالے مذاکراتي عمل کا حصہ ہيں۔ ايران کي مذاکراتي ٹيم پانچ جمع ايک گروپ کے ارکان کے ساتھ کئي بار دوطرفہ اور چند جانبہ مذاکرات کرچکي ہے, ليکن يہ پہلي بار ہے جب وہ پانچ جمع ايک گروپ کے پليٹ فارم سے ہٹ کر امريکا کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کررہي ہے۔ امريکا کے ساتھ ہونےوالے دوطرفہ مذاکرات ميں ايراني ٹيم کي قيادت نائب وزيرخارجہ عباس عراقچي اورامريکا کي مذاکراتي ٹيم کي قيادت نائب وزيرخارجہ وليم برنز کررہے ہيں۔ ان مذاکرات ميں امريکا کي نائب وزير خارجہ ونڈي شرمين اور امريکا کي قومي سلامتي کے امور کے سينئر عہديدار جيک ساليوان بھي موجود ہيں - ايران اور امريکا کے درميان دوطرفہ مذاکرات ميں يورپي يونين کے شعبہ خارجہ کي پاليسي کي ڈپٹي انچارج ہلگااشميد بھي موجود ہيں۔ امريکا ، پچھلے دس سال سے ايٹمي معاملے ميں ايران کے خلاف بے بنياد الزامات عائد کرنے ميں پيش پيش رہا ہے ليکن امريکا کے اس قسم کے غير قانوني اقدامات، پرامن ايٹمي ٹکنالوجي سے استفادے کے حق کے دفاع ميں ايران کے راستے ميں رکاوٹ نہ بن سکے اور ايران نے اپنے ايٹمي حق کے مطابق پرامن مقاصد کے تحت يورينيم کي افزودگي جاري رکھي۔ ايران نے بارہا اعلان کيا ہے کہ ايٹمي حقوق منجملہ يورينيم کي افزودگي مذاکرات کے دوران ايران کي ريڈ لائن ہے اور اپنے مسلمہ حقوق پر دوسروں سے بات چيت نہيں کرے گا ليکن اعتماد سازي اور اپنے ايٹمي پروگرام کو پرامن ثابت کرنے کےلئے بات چيت کے لئے ہروقت تيار ہے۔ پانچ جمع ايک گروپ اور اس وقت امريکا کے ساتھ مذاکرات کا مقصد بھي حتمي سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے اقدامات کو تيز کرنا ہے - اس لئے يہ مذاکرات حتمي سمجھوتے کي صورت ميں ايران کے خلاف امريکا کي پابنديوں کو ختم کرنے کے طريقہ کار پر مرکوز ہيں۔ جنيوا ميں امريکي مذاکرتي ٹيم کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد ايراني ٹيم روس کي مذاکراتي ٹيم سے بھي مذاکرات کرےگي- يہ مذاکرات بدھ اور جمعرات کو ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲