ابنا: تہران میں منعقدہ قرآن کریم کے حفظ و قرائت کے بین الاقوامی مقابلے میں شریک قرّاء ، حفاظ اور اساتذہ نے آج رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں قرآن کریم کی تلاوت اور حفظ کا اصلی مقصد قرآن کریم سے انس، اس کے فہم اور اس پر عمل کو قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہدایت الہی اور دشمن کی شناخت جیسے حساس مسائل کے سلسلے میں قرآن کریم کے بنیادی معیارات کے فہم کا انحصار قرآن کریم کے ساتھ انس پر موقوف ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مشکل قرآنی تعلیمات سے دوری اور نتیجتا اسلام دشمنوں کی سازشوں اور خباثتوں سے مسلمانوں کی غفلت کو قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی دنیا میں اس بنیادی کمی کا ازالہ قرآنی معیارات کو گہرائی سے سمجھنے کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلام دشمنوں کی پالیسی اسلامی معاشروں میں بھائی کو بھائي کے ہاتھوں قتل کروانے اور پراکسی وار شروع کروانے کی بنیاد پر استوار ہے فرمایا کہ افسوس اس بات پر ہے کہ امت اسلامی میں بعض شخصیات اس منحوس پالیسی کی جانب متوجہ نہیں ہیں اور وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے مقابلے کے لۓ شیطان کے ہاتھ میں ہاتھ دینے حتی صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر بھی تیار ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ اسلام دشمنوں نے اسلامی جمہوریہ کی تشکیل کے بعد اپنی اسلام مخالف سازشوں میں شدت پیدا کردی اور ان کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد قرآن کریم کی جانب جوانوں اور نوجوانوں کے وسیع رجحان کو ایک عظیم نعمت سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ قرآن کریم سے انس معاشرے کو اس کی حیات بخش تعلیمات پر عمل سے قریب تر کرتا ہے اور قرآن کریم کے حفظ اور تلاوت کا اصلی مقصد بھی یہی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ملت اسلامیہ قرآن کریم کے مفاہیم کے ساتھ روز افزوں انس کی بدولت اس عزت کو حاصل کر سکتی ہے جس کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہے۔ واضح رہے کہ تہران میں قرآن کریم کے حفظ وقرآئت کےاکتیسویں عالمی مقابلے منعقد ہوئے جن میں دنیا کے مختلف خطوں کے اکہتر ممالک کے قاریوں اور حفاظ نے شرکت کی۔ ان مقابلوں کے دس غیر ملکی اور پانچ ایرانی جج جبکہ تین مبصر تھے۔
.......
/169