ابنا: بيرون ملک مقيم شامي باشندے آج صدارتي اليکشن کے لئے مختلف ملکوں ميں ووٹ ڈال رہے ہيں جبکہ خود شام ميں صدارتي اليکشن تين جون کو ہوگا - شام کےصدارتي اليکشن ميں موجودہ صدر بشار اسد ، ماہر عبدالحفيظ حجار اور حسان عبداللہ النوري ميدان ميں ہيں -
شام ميں صدارتي اليکشن اس ملک ميں جاري سياسي اصلاحات خاص طور پر بنيادي آئين ميں اصلاحات اور دہشت گردوں کے خلاف شامي فوج کي فيصلہ کن کاميابي کا نتيجہ ہے - ايسا پہلي بارہے جب شام ميں تين اميدوار صدارتي اليکشن ميں ايک دوسرے کے مدمقابل ہيں -
اس اليکشن سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ شام کے بحران کا واحد حل يہ ہے کہ وہاں جمہوريت پھولے پھلے اور ملک کے مستقبل کے بارے ميں فيصلہ کرنے کا حق شامي عوام کو ہي ديا جائے.
ايک ايسے وقت جب شام کے سياسي بحران کے حل کے لئے موقع فراہم ہوگيا ہے مغرب اور عرب ملکوں کے محاذ نے دوہرے معيار کا رويہ اپناتے ہوئے شام ميں صدارتي اليکشن کے انعقاد کي مخالفت کي ہے - بعض مغربي ملکوں منجملہ جرمني فرانس اورامريکا نے سعودي عرب اور قطرجيسے بعض عرب ملکوں کے ساتھ مل کر اپنےيہاں مقيم شامي باشندوں کوشام کے صدارتي اليکشن ميں حصہ لينے کي اجازت دينے سے انکار کرديا ہے جبکہ شام کے اندر سے موصولہ رپورٹيں بتاتي ہيں کہ شام کے عوام اپنے ملک کي تقدير کا فيصلہ خود کرنے کے تعلق سے پوري طرح پرعزم ہيں اور اس تعلق سے ان کے اندر کافي جوش و خروش پاياجاتاہے -
.......
/169