اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی صدر بارک اوباما نے ہندوستان کے نو منتخب وزیراعظم نریندر مودی کو انتخابات میں ان کی پارٹی کی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے انہیں دورۂ امریکہ کی دعوت دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے ہندوستان کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلیفون پر پر گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نریندر مودی کی وزارت عظمی کے دور میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مزید قریبی تعاون رہے گا اور دونوں ممالک ایک ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔ وھائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کی غرض سے نریندر مودی کو امریکہ دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔البتہ اس دورے کی تاریخ کے بارے میں ابھی کچھ طے نہیں ہوا ہے۔ نریندر مودی کو واشنگٹن کا دورہ کرنے کی دعوت، ایسی حالت میں دی گئی ہے کہ امریکہ کے سنہ اٹھّانوے کے قانون کے مطابق مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والی شخصیات پر واشنگٹن کا دورہ کرنے پر پابندی ہے اور اسی بناء پر سنہ دو ہزار پانچ میں امریکہ کی اس وقت کی جارج بش حکومت نے نریندر مودی کو امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔سنہ دو ہزار دو میں ہندوستان کی ریاست گجرات میں، ایسے میں جب کہ نریندر مودی اس ریاست کے وزیراعلی تھے، ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے جن میں بیشتر مسلمان شامل تھے۔ہندوستان میں ان فسادات کا ذمہ دار نریندر مودی کو قرار دیا جاتا رہا ہے تاہم انھوں نے ان فسادات میں ملوث ہونے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ ہندوستان کی عدالت عالیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ نریندر مودی کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ ادھر امریکی کانگریس نے بھی گذشتہ مارچ میں اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ نریندر مودی اگر ہندوستان کے وزیراعظم بنے تو انھیں امریکہ کا ویزا جاری کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲