22 اپریل 2014 - 15:13
کشمیر میں تازہ حملوں کے بعد عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تازہ حملوں کے بعد عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جبکہ پلوامہ اورشوپیان کے علاقوں میں متعدد دیہی نمائندوں نے مستعفی ہونے کااعلان کردیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔ ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تازہ حملوں کے بعد عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جبکہ پلوامہ اورشوپیان کے علاقوں میں متعدد دیہی نمائندوں نے مستعفی ہونے کااعلان کردیا ہے۔ ان علاقوں میں منتخب دیہی نمائندوں کو پولیس تھانوں ،چوکیوں اورفورسزکیمپوں میں پناہ لینے کی پیشکش کی گئی ہے ۔ادھرریاستی پولیس کے سربراہ اشوک پرسادنے دیہی نمائندوں پرحالیہ حملوں کو جنگجوؤں کی نئی حکمت عملی سے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ پنچوں اور سرپنچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اشوک پرساد نے کہا ہے کہ جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ اور ترال علاقہ میں 2سرپنچوں اور ایک نمبردار سمیت4 افراد کی ہلاکت کے سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اصل حقائق کی تحقیقات میں لگی ہوئی ہے اور بہت جلد تمام حقائق کو منظر عام پر لایا جائے گا ۔ حریت کانفرنس کے دو دھڑوں کے مابین حالیہ مخالفانہ بیان بازی کے نتیجے میں پیدا صورتحال پر رائے زنی کرتے ہوئے ریاستی پولیس کے سربراہ اشوک پرساد نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا کہ تازہ صورتحال یا کشیدگی کے نتیجے میں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو کوئی خطرہ لا حق ہے ۔انہوں نے بتایا کہ فی الوقت دونوں علیحدگی پسند لیڈران کو کوئی سیکورٹی خطرہ لا حق نہیں ہے ۔تاہم اشوک پرساد نے کہا کہ پولیس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور جب ایسا محسوس ہو گا کہ کسی علیحدگی پسند لیڈر کو سیکورٹی خطرہ لا حق ہے تو اس کی سیکورٹی میں ضروری اضافہ کیا جائے گا۔ ادھر اننت ناگ میں حملوں کے بعد ہندوستان کے زیر انتظام جنوبی کشمیرمیں پارلیمانی انتخابات کے پیش نظرسیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور 1349 پولنگ مراکزکے گردونواح میں پیشگی حفاظتی حصارقائم کئے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

لیبلز