ابنا: شام کی سرکاری نیوز ایجینسی سانا کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے سعودی عرب کے بادشاہ کی بیٹیوں کے مطالبات کی بھرپور حمایت کی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی چار بیٹیاں سحر ، مہا ، ھلا اور جواہر ملک میں سماجی سرگرمیاں اور خواتین کے معاشرے میں کام کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں اور اسی بنا پر سعودی عرب کے بادشاہ کے حکم سے ان کو بادشاہ کے محل میں ہی نظر بند کردیا گیا ہے اور ان کو محل سے باہر آنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔
سعودی عرب کے بادشاہ "عبداللہ بن عبدالعزیز" اپنی بیٹیوں کے معاشرے میں کام کرنے کی خواہش کو ایک جرم سمجھتے ہیں اور اسی لئے سزا کے طور پر اپنی چار بیٹیوں کو محل میں ہی نظر بند کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ سعودی شہزادی سحر نے لبنان سے شائع ہونے والے اخبار السفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ گھٹن والا ملک ہے اور اس ملک میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔
سعودی عرب کے بادشاہ کی ایک اور بیٹی ھلا کہ جو اس ملک کے ایک اسپتال رابطے میں رہی ہے انکشاف کیا ہےکہ ، سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کو نفسیاتی بیماریوں کے وارڈ میں داخل کردیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی 19 بیویاں اور 36 بیٹے بیٹیاں ہیں۔
.......
/169
.......
/169