17 اپریل 2014 - 10:29
ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوششیں

بعض قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایک ایسا گروہ وجود میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کے فوجی پہلوؤں پر تشویش جیسے بہانوں اور اس طرح کے موضوعات کو ایٹمی مذاکرات میں اٹھانے کے ذریعے ایران کے جائز اور قانونی ایٹمی حقوق کی پامالی ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان چوبیس نومبر سنہ دو ہزار تیرہ کو جنیوا میں ابتدائي سمجھوتہ طے پایا۔ اس سمجھوتے کی بنیاد پر حتمی اور جامع سمجھوتے تک رسائي کے لۓ فریقین کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں مذاکرات کا چوتھا دور مئی کے مہینے میں منعقد ہوگا۔ بعض قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایک ایسا گروہ وجود میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کے فوجی پہلوؤں پر تشویش جیسے بہانوں اور اس طرح کے موضوعات کو ایٹمی مذاکرات میں اٹھانے کے ذریعے ایران کے جائز اور قانونی ایٹمی حقوق کی پامالی ہے۔
ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کے کل کے بیانات سے اس طرح کے اقدامات کے نئےمرحلے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یوکیا آمانو نے کل شین ہوا خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ایٹمی معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کے لۓ کوشاں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے "ایران  کے ایٹمی پروگرام کے ممکنہ فوجی پہلوؤں" جیسے الفاظ استعمال کرتے  ہوئے مذاکرات میں پیشرفت کو ایران کی جانب سے ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کی توقعات پوری کۓ جانے کے ساتھ مشروط کیا اور کہا کہ اگر باہمی تعاون کی رفتار سست رہی تو ایران کے ایٹمی پروگرام کے ممنکہ فوجی پہلوؤں سے متعلق معاملات کے حل میں زیادہ عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

یوکیا آمانو نے سنہ دو ہزار گيارہ  کو ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ انھوں نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ایسے شواہد اور قرائن اکٹھے کۓ ہیں جن سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ لیکن یوکیا آمانو نے کبھی بھی ایسے قرائن و شواہد پیش نہیں کۓ ہیں۔ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لۓ ان بے بنیاد دعووں کو دہرایا جاتا ہے۔ یوکیا آمانو نے اب تک امریکہ کے سیاسی مفادات کا تحفظ کیا ہے ۔ اگرچہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور باہمی تعاون کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیتے ہیں لیکن شین ہوا کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ ایران کی بنیادی ایٹمی پالیسی میں ابھی تک کوئي تبدیلی نہیں آئي ہے۔ انھوں نے ماضی کی طرح دو رخی بیانات دیتے ہوئے اپنی اسی بات کو دہرایا ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی ایران کے تمام ایٹمی مواد اور تنصیبات کے پرامن ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتی ہے ۔ ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو کی جانب سے ایسے حالات میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہےکہ جب ایٹمی مذاکرات میں پیشرفت ہورہی ہے ۔ البتہ بعض غیر متعلقہ مسائل ان مذاکرات پر سایہ فگن ہیں۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی نمائندہ وینڈی شرمین (Wendy Ruth Sherman) کے حالیہ بیانات ، کہ جن کا مقصد ایران اور گروپ پانچ جمع ایک  کے درمیان ہونے والے ایٹمی مذاکرات کا دائرہ ایران کی میزائيلی صلاحیتوں تک بڑھانا ہے، کا شمار بھی ان مسائل میں سے ہوتا ہے  امریکی حکام جن کے درپے ہیں اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کے بیانات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ اس لۓ یوکیا آمانو کی سابقہ کارکردگي اور امریکہ کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بیانات ایران پر دباؤ ڈالنے کے لۓ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت دیۓ گۓ ہیں۔

یوکیا آمانو نے حال ہی میں صیہونی حکومت کے صدر شیمون پرز کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل کو ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا اہم شریک قرار دیا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یوکیا آمانو دوسروں کی نسبت زیادہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اسرائیل ہی مشرق وسطی میں واحد ایٹمی خطرہ ہے، وہ این پی ٹی معاہدے کا رکن بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ایٹمی تنصیبات پر ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کی کسی طرح کی نگرانی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی ایٹمی معاملے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے اہداف و مقاصد کے حصول کے لۓ ایک ذمےدار ادارہ ہے لیکن اسے ادارے کو یوکیا آمانو کی سربراہی کے زمانے میں ان مقاصد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یوکیا آمانو اس بات کو بھول چکے ہیں کہ ان کا اصل فرض خطے اور دنیا میں حقیقی ایٹمی خطرات کے سلسلے میں عالمی برادری کے مطالبات کو  پورا اور تشویشوں کو دور کرنا ہے۔

بہرحال بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے ذریعے بیس جولائی تک ایک جامع سمجھوتے تک رسائی ایک قابل حصول ہدف ہے کیونکہ ایٹمی معاملے کے سلسلے میں ایک جامع سمجھوتے تک پہنچنے کے لۓ چوبیس نومبر دو ہزار تین کو معین شدہ چھ ماہ کی مدت میں سے گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے اب تک آدھا راستہ کامیابی سے طے کر لیا ہے اور اب وہ حتمی اور جامع سمجھوتے کی شقوں کی تدوین کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔

 .......

/169