ابنا: بندر بن سلطان کو جولائی 2012 میں خفیہ ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ بندر بن سلطان امریکا میں سعودی سفیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے، تاہم غیر ملکی خبررساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر بن سلطان نے پچھلے برس اکتوبر میں شام کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں بیان دیا تھا جس کے بعد سے دونوں ملکوں کے روابط میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
بندر بن سلطان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی بشارالاسد کی مدد سے روکنے میں ناکام رہے تھے اور انہی معاملات کے بعد سے انہیں شام سے متعلق تمام ذمہ داریوں سے دور کرلیا گیا تھا۔
.......
/169