اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے نائب وزرائے خارجہ بدھ کے روز ایک دوسرے کے موقف کو سننے اور نظریات کو قریب تر لانے کے بعد حتمی معاہدے کے مشترکہ متن کی تیاری کے مرحلے میں پہنچ گئے اور تقریبا چار گھنٹے کے مذاکرات کے بعد باضابطہ طور پر ویانا تین مذاکرات کو ختم کیا۔
ان مذاکرات کے اختتام پر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ مذاکرات جنیوا معاہدے اور جنوری کے مہینے میں طے پانے والے دائرے کے اندر انجام پائے لیکن ابھی بھی اس سلسلے میں پائے جانے والے اختلافات کے بارے میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے بھی اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے ویانا تین مذاکرات میں ایٹمی مسئلے کے تناظر میں اساسی اور تفصیلی بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کو حل کرنے کے عمل میں بہت ہی اہم اور زیادہ کام درپیش ہیں اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے کلیدی عناصر پر کام کرنا چاہیے۔
ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے چوبیس نومبر دو ہزار تیرہ کو جنیوا میں ایک ابتدائی ایٹمی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے پر بیس جنوری سے عمل درآمد شروع ہوا اور اب کہا گیا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور تیرہ مئی کو ہو گا۔ اس طرح نومبر سے جولائی تک ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان حتمی معاہدے کاراستہ ہموار کرنے کی غرض سے منعقد ہونے والے مذاکرات اب آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ اب تک کے مذاکرات مثبت، مفید اور تعمیری رہے ہیں لیکن اس کے باوجود مذاکرات کی مدت میں توسیع کا امکان موجود ہے۔
اس وقت دونوں فریق حتمی معاہدے کے ساٹھ فیصد مندرجات پر متفق ہو چکے ہیں اور ان کے درمیان مذاکرات کے عمل میں تیزی آ چکی ہے۔ اگر اس حتمی معاہدے پر دونوں فریق دستخط کر دیتے ہیں تو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایک دہائی سے جاری بےبنیاد جھگڑا ختم ہو جائے گا۔
ایران نے واشگاف الفاظ میں اعلان کر رکھا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار کبھی نہیں بنائے گا اور ایران کی ڈاکٹرائن میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئي جگہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ رہبر انقلا ب اسلامی نے بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو حرام قرار دیا ہے۔ اس وقت مذاکرات کے عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مقابل فریق نے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کے مقاصد کی حقیقی تصویر دیکھ لی ہے اور اس نے جنیوا معاہدے کے مطابق ایران کے ایٹمی حقوق کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ جامع معاہدے کے حتمی مرحلے میں ایران کے خلاف عائد تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲