اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایسے وقت کہ جب بحرینی حکام نے آل خلیفہ حکومت کے مخالفین کو کچلنے پر مبنی آپریشن میں سعودی عرب اور اردن کی افواج کے شریک ہونے کا اعتراف کیا ہے ، متحدہ امارات کے تحقیقاتی مرکز نے بھی اس راز کو بے نقاب کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت بھی سن دوہزار گیارہ میں بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کے آغاز سے ہمیشہ اس تحریک کو کچنے میں آل خلیفہ کی حکومت کے ساتھ برابرکی شریک رہی ہے ۔اس مرکز نے اپنی رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کے وزیر داخلہ سیف بن زائد آل نہیان کے، بحرین میں تعینات اماراتی فوج کے حالیہ معاینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معائنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ متحدہ عرب امارات، عوامی احتجاجات کے خلاف تشدد آمیز اقدامات کی انجام دہی کے حوالے سے خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کی حمایت جاری رکھے گا۔دریں اثنا بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی مخالف سب سے بڑی جماعت قومی اتحاد نے گزشتہ روز حکومت مخالف مظاہرے میں گرفتار شدہ بعض نوجوان طلباکی تعلیم پر پابندی پر مبنی بحرینی حکام کے حکم کی مذمت کرتے ہوئے ان نوجوان طلباکی رہائی اور ان کی تعلیم جاری رکھے جانے کے سلسلے میں بین الاقوامی اداروں سے کوششیں کرنے کی درخواست کی ۔موصولہ رپورٹوں کے مطابق درجنوں بحرینی طلبا حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کے الزام میں جیلوں میں قید ہیں۔یہ ایسی حالت میں ہے بین الاقوامی تنظیموں نے جیلوں میں آل خلیفہ کے فوجیوں کے ہاتھوں بحرینی بچوں کو شدید آزار و اذیت پہنچائے جانے کا اعتراف کیا ہے اس سلسلے میں لولو ٹی وی چینل نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوام کی انقلابی تحریک کے آغاز سے اب تک زیادہ تر بحرینی بچے آل خلیفہ حکومت کی جارحیت کانشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس ٹی وی چینل نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آل خلیفہ حکومت بحرینی بچوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنارہی ہے اس المیے پر عالمی برادری کی خاموشی کو ہدف تنقید بنایا ان سب کے باوجود آل خلیفہ حکومت کے فوجیوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سترہ اور منامہ سمیت مختلف علاقوں سے گرفتار شدہ لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کرکے جیل روانہ کردیا۔یہ ایسی حالت میں ہے بحرین کے مختلف مذاہب کے لوگ اور خاص طور پر شیعہ آبادی جواس ملک کی سب سے بڑی آبادی ہے معمولی ترین شہری حقوق سے بھی محروم ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲