8 اپریل 2014 - 13:14
7 اپریل 2012ء کی شب کو پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کر سکے گی

یہ سانحہ کیا تھا ایک قیامت تھی جو تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک آفت بن گئی جس میں بٹالین ہیڈ کوارٹر میں موجود 129 فوجی اور 11 سویلین گلیشیئر میں دب گئے۔

ابنا: 2012ء میں آج ہی کے دن گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے 129 فوجیوں سمیت 140 افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ 7 اپریل 2012ء کی شب کو پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کر سکے گی جب دنیا کے بلند ترین محاذ گیاری سیکٹر پر سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوجی جوان اور سویلین پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب ایک بڑے گلیشیئر نے سرکنا شروع کیا اور بٹالین ہیڈکوارٹر پر آگرا۔ سانحہ کیا تھا ایک قیامت تھی جو تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک آفت بن گئی۔ بٹالین ہیڈ کوارٹر میں موجود 129 فوجی اور 11 سویلین گلیشیئر میں دب گئے۔ گلیشیئر کا حجم غیر معمولی تھا۔ پاک فوج نے فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا جو کئی ماہ تک جاری رہا۔ ایک مشکل اور کٹھن آپریشن کے دوران 133 لاشیں تلاش کر لی گئیں۔ آج بھی پوری قوم اپنے شہیدوں کو یاد کرتی ہے اور مشکل ترین حالات میں سرزمین کی حفاظت کرنے والی پاک فوج کو سلام پیش کرتی ہے۔

.......

/169

لیبلز