اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خبررساں ادارے‘‘نیوزنور’’ کے حوالے سے خبردی ہے کہ لبنان کے ایک سنی عالم دین شیخ مہر حمد نے کہا کہ مسلم دانشور اور علماء تکفیرکے خطرے سے نمٹنے میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔
لبنان کے شہر سائڈن میں جمعہ کے خطبے کے دوران ممتاز سنی عالم دین نے کہا کہ سیاسی ،ثقافتی اور سماجی طور پر تکفیر کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر علماء اور مسلم دانشور تکفیری فکر کے خلاف اقدامات کرتے ہیں تو اس کے مسلم دنیا میں مثبت نتائج برآمد ہونگے۔
شیخ مہر نے شام کے موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس ملک میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی ہے جس وجہ سے واشنگٹن نے شام کو تبا ہ اور تحریک مقاومت کو گیرنے میں توجہ مرکوز کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام میں رونما پذیرواقعات کو کسی بھی طرح کے انقلاب کا نام نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ افراتفری ،تشدد ،تکفیر اور دہشتگردی کے واقعات ہیں ۔شیخ مہر نے تکفیری دہشتگردوں کے خلاف تحریک مقاومت کی مسلسل کامیابیوں کو بھی سراہا۔
شامی فوج نے گذشتہ کچھ مہینوں سے دمشق کے مضافاتی علاقوں اور شمال مشرقی شہر حلب میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن انجام دئے ہیں۔
واضح رہے کہ شام میں مارچ2011 سے خون ریز بدامنی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور بعض ذرائع کے مطابق مغربی اور بعض عرب ممالک کے ذریعے پیدا کئےگئےاس تنازعے میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
...........
242