20 مارچ 2014 - 20:30
نئے ہجری شمسی سال 1393 کی مناسبت سے حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا پیغام

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اپنے پیغام میں نئے ہجری شمسی سال 1393 کے آغاز اور نوروز کی آمد کے موقع پر وطن عزیز اور دنیا بھر میں تمام ایرانیوں ،بالخصوص ایران و اسلام کےمجاہدین ، شہداء اور جانبازوں کے اہلخانہ کو مبارک باد پیش کی اور نئے سال کو قومی عزم و مجاہدانہ مدیریت کے ساتھ ثقافت اور اقتصاد کے نام سے موسوم کیا۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلام کی عظیم اور بزرگ خاتون بی بی دو عالم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت کے ایام سے نئے سال کے تقارن کی طرف اشارہ کیا اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے لئے  یہ تقارن فاطمی برکات اور انوار الہی کی ہدایت کی بدولت دگنا اور مضاعف استفادہ کرنےکا باعث قرارپائے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نئے سال میں " اقتصاد و معیشت اور ثقافت " کے دو مسئلوں کو تمام مسائل میں اہم قراردیتے ہوئے فرمایا:  نئے سال کے نعرے " قومی عزم و جہادی مدیریت کے ساتھ ثقافت اور اقتصاد کے سال" کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عوام اور حکام کے درمیان مشترکہ تلاش و کوشش ضروری ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی تعمیر و ترقی میں عوام کی شرکت اور حضور کے بنیادی و اساسی اور ممتاز نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عوام کی شرکت اور حضور کے بغیر اقتصاد و معیشت اور ثقافت میں کوئي کام نہیں ہوپائےگا اور عوام کے مختلف گروہوں کو پختہ قومی عزم و ارادے کے ساتھ اس میدان میں اپنا نقش ایفا کرنا چاہیے۔رہبر معظم کے پیغام کے متن کا مکمل ترجمہ:بسم اللہ الرحمن الرحیم پورے ایران اور دنیا کے دیگر مقامات پر آباد اپنے تمام عزیز ہم وطنوں اور تمام ایرانیوں کو نئے سال  کی آمد کی خصوصی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔  شہیدوں کے با عظمت خاندانوں، میدان جنگ میں مجروح ہونے والے جانبازوں، ان کی ازواج اور ان تمام افراد کو جنہوں نے اسلام کی راہ میں اور ایران کے لئے جہاد کیا اور کر رہے ہیں اور اپنے دوش پر ذمے داریوں کا بوجھ اٹھایا ہے اور ا ٹھا رہے ہیں اور ان تمام اقوام کو بھی نوروز کی مبارکباد  پیش کرتا ہوں جو نوروز مناتی ہیں اور اسے خاص احترام اور قدر کی نظر سے دیکھتی ہیں۔اس مرتبہ ایام فاطمی کی دو مناسبتوں اور عالم اسلام  کی سب سے عظیم  خاتون، صدیقہ کبری سلام اللہ علیہا کی شہادت کی یاد میں منعقد ہونے والے پروگراموں کے موقع پر نئے سال کی آمد ہوئی ہے۔ یہ اتفاق اس بات کا سبب بنے گا کہ ہماری قوم انشاءاللہ انوار فاطمی کی برکتوں سے مستفید ہو اور اس عظیم ہستی کی تعلیمات کے سائے میں قرار پائے اور اپنے وجود کو انوار ہدایت الہیہ سے جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور خاندان پیغمبر کے وسیلے سے دنیا کے تمام انسانوں کو عطا ہوئے ہیں، منور کرے  ۔سال کا آنا جانا، اور اس کی تبدیلی ہمارے لئے تجربہ اور بصیرت کا باعث بننا چاہئے۔ ہمیں ماضی سے سبق لیتے ہوئے مستقبل کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا اپنے مستقبل کے لئے فیصلہ کرنا چاہئے۔ میں پروردگارعالم کی بارگاہ میں دعاگو ہوں کہ اس نئے سال میں ہمارے تمام عزیز ایرانیوں کو صحت وسلامتی، روح کی شادابی، ذہنی احساس تحفظ، فکری آسودگی، پیشرفت، بلندی اور سعادت عنایت فرمائے۔ دعا کرتا ہوں کہ خدا وند عالم ہمارے نوجوانوں کو نشاط و ارتقاء، ہمارے مردوں اور عورتوں کو پر افتخار راستوں کو طے کرنے کا حوصلہ اور محکم و صحیح عزم و ارادہ اور ہمارے بچوں کو شادمانی و تندرستی اور ہمارے خاندانوں کو سلامتی، محبت اور الفت عطا کرے ۔ ہمارا فرض ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لئے گزشتہ سال پر نظر ڈالیں اور فیصلہ کرنے اور منصوبہ بندی کے لئے آنے والے سال کا جائزہ لیں۔ جو سال گذر گیا اس کے لئے اعلان کیا گیا تھا کہ سیاسی جہاد اور اقتصادی جہاد کا سال ہے۔ سیاسی جہاد بحمداللہ مختلف میدانوں میں بہت اچھے طریقے سے انجام پایا، انتخابات ، ملک گير عظیم جلوسوں ، مختلف میدانوں اور مختلف میدانوں میں بھر پور عوامی شرکت کے ذریعے بھی اور سال بھر حکام اور عوام کی جانب سے انجام پانے والی سرگرمیوں اور کوششوں کی صورت میں بھی، یہ حکومت تبدیل ہونے اور اقتدار کی منتقلی کا سال تھا اور یہ عمل ملک کے اندر انتہائی پرسکون ماحول میں اور نہایت محفوظ انداز میں سرانجام پایا اور بحمد اللہ ملک کے طویل انتظامی سلسلے کی ایک نئی کڑی وجود میں آئی ۔ اقتصادی جہاد کے میدان میں جو کام ہونا چاہئے تھا اس کے انجام دیئے جانے کی امید تھی وہ انجام نہ پا سکا۔ کوششیں ضرور ہوئیں جن پر اظہار تشکر کرنا چاہئے مگر اقتصادی جہاد کے میدان میں جو بڑا کام انجام دیا جانا چاہئے تھا وہ بدستور ہمارے سامنے موجود ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس جہاد کو عملی جامہ پہنائیں۔ معیشت کا کلیدی معاملہ ہمارے ملک اور ہماری قوم کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور سنہ 92 ہجری شمسی کے اواخر میں بحمد اللہ اقتصادی جہاد کے لئے فکری و نظری بنیادیں وجود میں آئیں۔ استقامتی معیشت کی پالیسیوں کا اعلان کیا گیا اور اس میدان میں ضروری اقدامات انجام دینے کے لئے بحمد اللہ زمین ہموار ہو چکی ہے۔ سنہ 93 ہجری شمسی پر نظر ڈالنے سے ،حقیر کی نظر میں جو چیز  سب سے اہم معلوم پڑتی ہے وہ دو مسائل ہیں۔ ایک تو یہی معیشت کا مسئلہ ہے اور دوسرا ثقافت کا مسئلہ ہے۔ ان دونوں میدانوں میں جس بات کی توقع ہے وہ ملک کے حکام اور عوام کی مشترکہ کوشش ہے۔ زندگی کی تعمیر اور مستقبل کو سنوارنے کے سلسلے میں جس چیز کی امید ہے عوامی شراکت کے بغیر ان کا عملی ہونا ممکن نہیں ہے۔ بنا بریں انتظامی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ جو حکام کے ذمے ہے، دونوں میدانوں میں عوام کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ معیشت کے شعبے میں بھی اور ثقافت کے میدان میں بھی۔ عوام کی شرکت کے بغیر کام آگے نہیں بڑھے گا اور مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ لوگ مختلف عوامی طبقات میں محکم ارادوں اور پختہ قومی عزم کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کاموں کی درست انجام دہی کے لئے حکام کو عوام کی پشت پناہی کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہئے کہ اللہ تعالی کی ذات پر توکل کرکے توفیقات الہی کی دعا کے ساتھ اور عوامی معاونت کا سہارا لے کر میدان عمل میں قدم رکھیں، اقتصادی شعبے میں بھی اور ثقافتی میدان میں بھی۔ لہذا میرے خیال میں اس نئے سال کے دوران جو مہم  در پیش ہے وہ ہے ایسی معیشت جو حکام اور عوام کی مدد سے فروغ پائے اور ایسی ثقافت جو حکام اور عوام کے عزم و حوصلے کی مدد سے ہمارے ملک اور ہماری قوم کی پیشقدمی کی سمت معین کرے۔ لہذا میں نے اس سال کا نعرہ اور اس کا نام معین کیا ہے، قومی عزم اور مجاہدانہ مدیریت کے سائے میں معیشت و ثقافت ( سال اقتصاد وثقافت)۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی محترم عوام اور حکام کی مدد فرمائے کہ وہ اس میدان میں اپنے فرائض پر عمل کر سکیں۔ حضرت امام زمانہ (عج) کے قلب مقدس کو ہم سے خوش رکھے۔ رہبر کبیر امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اور ہمارے عزیز شہیدوں کی ارواح مطہرہ کو ہم سے راضی فرمائے۔                                                              والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ                                                                         سید علی خامنہ ای..............242