10 مارچ 2014 - 20:30
اسلامی نظام میں سماجی انصاف کے بغیر اقتصادی رونق کا کوئی فائدہ نہیں

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے آج صبح مختلف اداروں کے حکام ، اقتصادی شعبہ میں فعال و سرگرم عناصر اور علمی، تبلیغی اور نگراں مراکز کے ڈائریکٹروں پرمشتمل سینکڑوں افراد کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: اسلامی نظام میں اقتصادی رونق کا سماجی انصاف کے بغیر کوئی فائدہ نہیں ہے اور ہر قسم کی اقتصادی پیشرفت میں پسماندہ طبقات کی حالت بہتربنانے پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ نے آج صبح (بروز منگل) مختلف اداروں کے حکام، اقتصادی شعبہ میں فعال و سرگرم عناصر اور علمی، تبلیغی اور نگراں مراکز کے ڈائریکٹروں پر مشتمل سینکڑوں افراد کے ساتھ ملاقات میں پائدار و مقاومتی اقتصاد کی کلی پالیسیوں کے اجزاء، ان پالیسیوں کی تدوین کے عوامل و اغراض اور اس سلسلے میں حکام سے توقعات اور تقاضوں کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: حکام کا پختہ عزم، پروگرام اور مقررہ وقت میں پالیسیوں کا نفاذ، دقیق نگرانی، اقتصادی شعبہ میں عوام اور سرگرم عناصرکو درپیش مشکلات و رکاوٹوں کی برطرفی اور بحث و گفتگو کے ذریعہ عوام کی زندگی میں اس مقامی اور علمی نمونہ کے شیریں اور قابل لمس نتائج مناسب مدت میں جلوہ گر اور نمایاں ہونا ممکن ہوجائیں گے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں اس ترکیب کے ساتھ حکام کے اس قسم کے اجلاس کے انعقاد کا ہدف، پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی کلی پالیسیوں کے نفاذ کے سلسلے میں باہمی ہمدلی اور ہمفکری پیدا کرنے، ملک کی برق رفتار پیشرفت و ترقی کی راہ ہموار کرنے اور اسلامی نظام کے اعلی اصولوں کی جانب حرکت  کو قراردیا ۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ برسوں میں مختلف پالیسیوں کے ابلاغ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان پالیسیوں کے ابلاغ کا مقصد ہر شعبہ میں نقشہ راہ پیش کرنا تھا لیکن پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی کلی پالیسیوں کے ابلاغ کا ہدف صرف نقشہ راہ پیش کرنا نہیں ہے بلکہ اس راہ پر چلنے کے لئے صحیح اور ضروری معیاروں کو بھی مدںطر رکھا گیا ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی کلی پالیسیوں کا مجموعہ در حقیقت مقامی و علمی نمونہ ہے جو اسلامی و انقلابی ثقافت کا مظہر اور ملک کے موجودہ اور آئندہ حالات کے متناسب ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی پالیسیاں صرف موجودہ شرائط کے لئے نہیں ہیں بلکہ ملکی اقتصاد و معیشت اور اسلامی نظام کے بلند اقتصادی اہداف تک پہنچنے کی ایک اہم تدبیر ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی کلی پالیسیوں کے تحرک اور رشد و نمو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ پالیسیاں قابل تکمیل اور مختلف شرائط کے مطابق اور موافق ہیں جو عملی طورپر ملکی معیشت و اقتصاد کو لچکدارحالت میں تبدیل کرسکتی ہیں اور مختلف شرائط میں ملکی معیشت و اقتصاد کی خراب صورت حال کو دور کرسکتی ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: پائدار و مقاومتی معیشت و اقتصاد کی کلی پالیسیوں کی  ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ تمام قوا اور مختلف اداروں کا اس کے بارے میں اتفاق نظر ہےکیونکہ یہ نمونہ ماہرین کے تعاون ، مختلف حکام اور مجمع تشخیص مصلحت نظام  میں تینوں قوا کے سربراہان کی موجودگی میں  بحث و تبادلہ خیالات  کے بعد تدوین ہوا ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی کلی پالیسیوں کو مضبوط ، دقیق اور مستحکم قراردیتے ہوئے فرمایا: پائدار اور مقاومتی اقتصاد و معیشت کی طرف رجحان صرف ایران سے مختص نہیں ہے حالیہ برسوں میں عالمی اقتصادی بحران کے پیش نظر بہت سے ممالک ،اپنی داخلی توانائیوں اور شرائط کی روشنی میں اقتصاد و معیشت کو مضبوط بنانےکی تلاش میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲