10 مارچ 2014 - 20:30
ایران پاک پائپ لائن پروجیکٹ پر عملدرآمد میں پاکستان کی بہانہ جوئی

اس سے قبل ایران کے وزیر پٹرولیم بیژن نامدار زنگنہ نے کہا تھا کہ پاکستانی حکام کے بیانات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ پاکستان کی جانب سے پورا نہیں کیا جائیگا اسلئے اسلام آباد کو اس حوالے سے طے پانے والے جرمانے کو ادا کیا جانا چاہیئے۔

ابنا: پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ان کا ملک، گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد میں ہونے والی تاخیر کی بابت طے شدہ معاہدے کے تحت ایران کو جرمانہ ادا نہیں کریگا۔ انھوں نے اس سلسلے میں ہونے والی تاخیر کی وجہ، ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیوں کو قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں ختم کئے جانے کی صورت میں پاکستان ڈھائی برسوں میں اس پروجیکٹ پر عملدرآمد کریگا۔ اس سے قبل ایران کے وزیر پٹرولیم بیژن نامدار زنگنہ نے کہا تھا کہ پاکستانی حکام کے بیانات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ پاکستان کی جانب سے پورا نہیں کیا جائیگا اسلئے اسلام آباد کو اس حوالے سے طے پانے والے جرمانے کو ادا کیا جانا چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان، گیس خریدنے اور یا اس پر جرمانہ ہونے، دونوں صورت میں ایران کو پیسہ ادا کرنے کی توانائی نہیں رکھتا، اس رو سے اس ملک کیلئے گیس کی سپلائی کا امکان کافی بعید ہے۔  ایران کے نائب وزیر پٹرولیم علی ماجدی نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گیس پائپ لائن کے پروجیکٹ پر عملدرآمد کے فقدان  کو ایران کے خلاف عائد کی جانے والی غیر قانونی امریکی پابندیوں سے جوڑا جانا، درست اقدام نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی جانب سے گیس پائپ لائن بچھائے جانے کی صورت میں ایران رواں سال کے آخر تک پاکستان کو گیس سپلائی کرنے کا پابند ہے اور طے شدہ سمجھوتے کی بنیاد پر فریقین میں سے جو بھی اس معاہدے پر عمل نہیں کریگا اسے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ ایران اپنے سے مربوط اس پروجیکٹ پر پچھّتر فیصد سے زائد پر عمل کرچکا ہے اور بارہ سو ستّائیس کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن میں سے نو سو چوبیس کلو میٹر تک گیس پائپ لائن بچھائی جاچکی ہے اور ایران معینہ مدت میں اپنے معاہدے پر عملدرآمد کرنے پر مکمل قادر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲