9 مارچ 2014 - 20:30
عراق کے وزیر اعظم نے کی رہبر انقلاب کے نمائندے کی عیادت+ تصاویر

عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے بغداد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے کی عیادت کی۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے بغداد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے کی عیادت کی۔جناب نوری مالکی نے عراق کے علماء اور سیاسی رہنماوں کے ایک وفد کے ہمراہ اس ملک میں رہبر معظم انقلاب کے نمائندے حضرت آیت اللہ شیخ محمد مہدی آصفی کی عیادت کی اور موصوف کی احوال پرسی کرتے ہوئے ان کی صحت و سلامتی کے بارے میں جویا ہوئے۔

عراق میں رہبر معظم کے نمائندے اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن قلبی ناراحتی کے باعث بغداد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔بغداد کے ہسپتال میں آیت اللہ آصفی کے ہوئے آپریشن کے بعد نوری مالکی نے ان کی عیادت کی۔

  آیت اللہ آصفی کے مختصر حالات زندگیآیت اللہ محمد مہدی آصفی ۱۹۳۷ میں نجف اشرف میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کے والد بزرگوار آیت اللہ شیخ علی محمد بروجردی آصفی تھے جن کا شمار حوزہ علمیہ نجف کے بزرگ علماء، مجتہدین اور عرفاء میں ہوتا تھا آپ کے پاس علم و معرفت کا ایک ذخیرہ تھا فقہ و اصول اور تفسیر قرآن میں آپ کے کافی آثار موجود ہیں کہ جن میں سے بعض مستقل طور پر جبکہ بعض علمی رسائل اور جرائد میں منظر عام پر آئے ہیں۔آپ کی  والدہ ماجدہ آیت اللہ شیخ محمد تقی بروجردی کی بیٹی تھی کہ جو اپنے زمانے کے مشہور فقہا میں سے تھے جنہوں نے مرحوم محقق عراقی، آیت اللہ نائینی، اور آیت اللہ اصفہانی کی شاگردی کا شرف حاصل کیا تھا آپ کے علمی آثار میں سے اہم ترین اثر اصول فقہ کا مجموعہ ہے کہ جو " نھایۃ الافکار " کے نام سے چھپا ہے اور دوسرا فقہی مجموعہ " حاشیہ استدلالی" کے عنوان سے منظر عام پر آیا ہے جو آپ نے عروۃ الوثقی پر حاشیہ لگایا ہے۔آیت اللہ آصفی نے مقدمات اور سطح کے دروس نجف اشرف میں اپنے والد بزرگوار اور دوسرے اساتید کی خدمت میں حاصل کئے۔ اور فقہ و اصول کے اعلی سطح کے دروس اس زمانے کے جید علماء و فقہا کے حضور میں پڑھے اور ان کے علمی ذخائر سے کسب فیض کیا۔حوزوی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم میں بھی آپ نے بغداد یونیورسٹی سے ایم اے پاس کیا ۔پچیس سال سے زیادہ عراق کی ظالمانہ حکومت کے خلاف سیاسی مجاہدات کیں اور اسی طریقے سے تیس سال سے زیادہ حزب الدعوۃ کے منصب صدارت پر رہتے ہوئے اس اسلامی گروہ کی حفاظت میں کوشاں رہے اور دس سال حزب الدعوۃ کے رسمی اسپیکر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ لیکن بعد میں کچھ مسائل کی بنا پر اس گروہ سے جدا ہو گئے۔حوزہ علمیہ نجف میں فقہ، اصول، فلسفہ اور تفسیر کا درس کہا بعد از آں دس سال حوزہ علمیہ قم میں فقہ و اصول کا درس خارج کہنے میں مشغول رہے ۔سات سال کویت میں بمقام " جامع النقی" ایک بڑے علمی مرکز میں کام کیا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ثقافتی میدان میں بہت سارے علمی آثار باقی چھوڑے۔آپ عربی اور فارسی زبان پر مسلط ہیں۔ آپ کی کتابیں فارسی، اردو، ترکی، انگلش، فرانسوی اور کردی زبان میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔ عصر حاضر کے معروف و مشہور رسائل اور جرائد میں آپ کے علمی مقالات چھپتے ہیں لیکن آپ کا زیادہ تخصص قرآن اور فقہ و اصول میں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲