ابنا: شامی میں جاری جنگ میں مغرب ممالک دہشت گردوں کی کھل کر حمایت کررہے ہیں آپ اس کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟شامی قونصلیٹ: شام اور ایران دو اسلامی اور دوست ممالک ہیں اور دونوں نے ہی استعمار کے خلاف جدوجہد کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ درحقیقت یہ دو ملک نہیں ہیں بلکہ ایک ہی ملک ہیں اور ان کی مثال کشتی کی سی ہے کہ اگر ایک کشتی میں سوراخ ہوگیا تو دونوں ملک ہی خطرے سے دوچار ہوجائیں گے۔ موجودہ صورت حال میں شام دشمنوں کے ساتھ نبرد آزما ہے اور کیوں کہ ہم حق پر ہیں اس لئے ناممکن ہے کہ ہم اپنے حق سے چشم پوشی کریں۔ شام میں ہونے والی جنگ کو آپ کیا نام دینا پسند کریں گے؟شامی قونصلیٹ: عالمی میڈیا نے ہمیں اس جنگ میں بہت زیادہ بدنام کیا ہے اور حقیقت میں ہم دو محاذوں پر لڑرہے ہیں، ایک جنگ کا میدان اور دوسرا ذرائع ابلاغ کا۔ حقیقت میں علاقے میں اٹھنے والی شورشوں کی زد میں ہم بھی آئے ہیں۔ چنانچہ ابتدا میں کچھ لوگوں نے حکومت سے مطالبات تسلیم کروائے ہیں۔ جنہیں حکومت نے پورا بھی کردیا ہے اور اسی طرح بہت سارے سیاسی قیدیوں کو رہا بھی کیا گیا ہے لیکن پھر اغیار نے اپنا کام کرنا شروع کیا اور لوگوں نے اسلحہ کے زور پر حکومت کو یرغمال بنانا چاہا جن کی حمایت امریکہ اور مغربی ممالک کررہے تھے اور انہوں نے ان باغیوں کی کھل کر حمایت کی ہے۔شبستان: مغربی میڈیا شام کے باشندوں کو دہشت گرد کہہ رہا ہے آپ اس سلسلہ میں کیا کہیں گے؟شامی قونصلیٹ: شام کے عوام تو حکومت کے وفادار ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی شامی مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ یہ دوسرے ممالک کے دہشت گرد ہیں جنہوں نے شامی سرزمین کو تباہ کردیا ہے۔ دہشت گردوں نے ہماری عمارتوں، ہسپتالوں اور کارخانوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔ حتی کہ کاشتکاری والی زمین میں تیل ڈال کر اسے بھی بیکار کردیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے نابغہ افراد بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔شام میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟شامی قونصلیٹ: انشاء اللہ جون 2014 میں شام میں آزادانہ ماحول میں انتخابات منعقد ہوں گے اور ہر قسم کے افراد جن میں صدارتی الیکشن لڑنے کی صلاحیت ہے وہ شام کے قوانین کے تحت اس می شریک ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ صدر دوبارہ الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس لئے بشار الاسد بھی اس الیکشن میں شرکت کریں گے۔ البتہ شام کے انتخابات ہمیشہ آزادانہ اور شفاف ماحول میں ہوتے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ دہشت گردوں نے بہت سارے انسانی کلچر کو تباہ و برباد کیا ہے؟شامی قونصلیٹ: جی ہاں بہت سارے تاریخی مقامات مسمار کردئیے ہیں اور آثار قدیمہ کی بہت ساری اشیاء کو چوری کرلیا گیا ہے۔ اگر دہشت گرد حق پر ہوتے تو اس قسم کے اقدامات نہ کرتے۔ انہوں نے ہماری مساجد اور مذہبی مقامات کو بھی گرادیا ہے حتی کہ ہمارے مردوں پر بھی رحم نہیں کیا حجر بن عدی کی قبر کی توہین کی گئی ہے۔......./169
5 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 511618
تہران میں مقیم شامی قونصلیٹ نے کہا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہراول دستہ میں شامل ہیں اور موجودہ جنگ امریکہ اورمغربی ممالک کیلئے درس عبرت بن جائے گی۔