ابنا: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل پیر کو اوباما نے کہا کہ اگر تل ابیب مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن کے لیے اپنے اتحادی کو عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑنے سے روکنے کے لیے دشواریوں کا سامنا ہوگا۔اوباما نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر مذمت اسرائیلی مفاد کی حفاظت سے متعلق واشنگٹن کے اثر و رسوخ کو محدود کر دے گی۔غور طلب ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات کا سلسلہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی غیر قانونی تعمیرات کے جاری رکھنے کے وجہ سے رک گيا تھا۔اوباما نے اپنے بیان میں نام نہاد امن مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نیتن یاہو سے کہا کہ وہ موقع کو غنیمت سمجھیں اس لیے کہ وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔گزشتہ مہینے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تل ابیب فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ نام نہاد امن معاہدے تک نہیں پہنچتا ہے تو اسے بین الاقوامی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔......./169
2 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 510696
امریکی صدر براک اوباما نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ براہ راست مذاکرات ناکام رہنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری کی توسیع کے جاری رہنے کی صورت میں عالمی سطح پر مرتب ہونے والے اثرات کے تئیں اسرائیل کو خبردار کیا ہے.