ابنا: جمہوری اسلامی ایران کے سابق چیف جسٹس اور مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی موسوی اردبیلی نے ایران کے وزارت زراعتی جہاد کے نایب وزیر اور محکمے جنگلات اور چراگاہوں اور پانی کے تالابوں کے محکمے کے رئیس کے ساتھ ملاقات کے دوران اپنی گفتگو میں اس چیز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ منافع خور افراد قومی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں اپنے خیالات کا اظہار کیا : انفال قومی سرمایہ شمار ہوتے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ جس کا دل چاہے انفال اور زمینوں میں سے کچھ حصے کو اپنے قبضے میں کر لے ۔انہوں نے لوگوں کو قدرتی وسائل کی حفاظت کرنے کی الہی اور علمی اہمیت کے بارے میں تعلیم اور ان تک اطلاع رسانی کرنے اور اس سلسلہ میں کہ طبیعی منابع کی حفاظت لوگوں کی عادت بن جائے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا : جنگلات اور زراعت محکمے کے اقدامات کی رپورٹ کی اطلاع لوگوں تک پہونچنا چاہیے تاکہ وہ اس ادارے کے کاموں اوراس کی مختلف ذمہ داریوں سے آشنا ہوسکیں۔اس مرجع تقلید نے ملک کے جنگلات کی حفاظت اور بقا کے لازمی ہونے پر زور دیتے ہوئے اظہار کیا: جنگلات کی نابودی انسانوں کے مفادات کے لیے زبردست خطرہ ہے اور ان کی حفاظت سے انسانوں کو ہی فائدہ پہونچے گا ۔موصوف نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ جو لوگ جنگلوں کو نابود کرتے ہیں ان کا قانونی مقابلہ کرنا چاہیے تصریح کی : جنگلات اور چراہ گاہوں کو نقصان پہونچانا حرام ہے اور شریعت کا یہ حکم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے۔اس مرجع تقلید نے آخر میں تبلیغ اور علماء کے کردار کی ادائیگی کو طبیعی ذخائر کی حفاظت کی ثقافت کو تقویت پہونچانے کے سلسلہ میں انتہائی موثر قرار دیا اور اظہار کیا ؛لوگ علماء کی بتائی ہوئی چیزوں سے استفادہ کرتے ہیں اور طلاب اور فضلاء کا کردار اس سلسلہ میں انتہائی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
28 فروری 2014 - 20:30
News ID: 510110
جمہوری اسلامی ایران کے سابق چیف جسٹس اور مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی موسوی اردبیلی نے فرمایا: جنگلات اور چراگاہوں کو نقصان پہونچانا حرام ہے اور شریعت کا یہ حکم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے۔