28 فروری 2014 - 20:30
ايران سے پابندياں ختم کي جائيں، امريکي شہري تنظيموں کا مطالبہ

امريکا کي اڑتيس شہري حقوق کي تنظيموں نے کانگريس سے کہا ہے کہ وہ ايران کے خلاف پابنديوں کو ختم کردے -

ابنا: خبروں کے مطابق امريکا کي شہري حقوق کي اڑتيس تنظيموں نے اپنے ايک مشترکہ خط ميں امريکي کانگريس کے رہنماؤں کو خط لکھ کر ان سے کہا ہے کہ وہ ايران کے ايٹمي معاملے پر ہونےوالے مذاکرات کو کسي انجام تک پہنچائيں –اس خط ميں کہا گيا ہے کہ امريکا کو نہ صرف يہ کہ ايران کو کوئي ايسا الٹي ميٹم نہيں دينا چاہئے جس سے ايٹمي معاملے پر ہونےوالے ابتدائي سمجھوتے کو نقصان پہنچے مزيد پابنديوں کوختم کرکے يہ ثابت کرے وہ اس سمجھوتے کو کسي منطقي انجام تک پہنچانے ميں سنجيدہ ہے- امريکا کي شہري حقوق کي تنظيموں  نے سينٹ ميں اکثريتي پارٹي کے ليڈر ہيري ريڈ ، اقليتي پارٹي کے ليڈر ميچ ميک کونل، ايوان نمائندگان کے سربراہ جان بوئنر اور ايوان نمائندگان ميں اقليتي پارٹي کي ليڈر نينسي پاول کو خط لکھ کر کہا ہے کہ کانگريس کو چاہئے کہ وہ ايٹمي معاملے پر جنيوا ميں ہونےوالے سمجھوتے کي پابندي کرے اور اس کي کسي بھي صورت ميں خلاف ورزي نہ کرے –ان تنظيموں نے امريکي کانگريس سے کہا ہے کہ حکومت اور کانگريس دونوں کو چاہئے کہ وہ ايران کے ايٹمي معاملے کے تعلق سے پرامن اورسفارتي بات چيت کا سلسلہ جاري رکھے اور ہر طرح کے جنگ پسندانہ بيان اور اشتعال انگيزي سے پرہيزکرے –اس خط ميں کہا گيا ہے کہ نومبر ميں ہونےوالے ايٹمي سمجھوتے ميں صرف ايران سے ہي نہيں  کہا گيا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے بلکہ امريکا کو بھي اس بات کا پابند بنايا گيا ہے کہ وہ بھي اپنے وعدوں کو عملي جامہ پہنائے بنابريں امريکي کانگريس کو چاہئے کہ وہ ايسے ہر کام سے پرہيز کرے جس کي وجہ سے جنيوا سمجھوتے کي خلاف ورزي ہوتي ہو -......./169