28 فروری 2014 - 20:30
یوکرین کے کریمیہ علاقے میں روسی افواج حرکت میں آ گئی ہیں

روس نے یوکرین کے کریمیہ علاقے میں موجود اپنے فوجیوں کو حرکت میں لانے کی رپورٹوں کی تصدیق کی ہے۔

ابنا: ماسکو کا کہنا ہے کہ علاقے میں واقع اپنے بحری بیڑے کی حفاظت کے لیے اس نے یہ قدم اٹھایا ہے اور ایسا روس-یوکرین کے درمیان معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔جعمہ کو شائع ہونے والے بیان میں روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس اقدام سے یوکرین کی حکومت کو مطلع کر دیا گیا ہے۔جمعرات کو کی ایف میں روسی مشن کے سربراہ کو یوکرین کی وزارت خارجہ نے طلب کرکے دو خط سپرد کیے تھے۔ایک خط میں یوکرین میں تازہ صورت حال کی اطلاع دی گئی تھی اور دوسرے میں بحیرہ اسود میں روسی بیڑے میں تعینات فوجیوں کو حرکت میں نہیں لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب یوکرین کے سابق صدر وکٹر یانوکووچ نے اقتدار سے بے دخل کر دیے جانے کے بعد پہلی بار روس میں منظر عام پر آ کر اپنے ملک کے لیے مزاحمت اور جد و جہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔صدر یانوکوچ نے روس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تختہ الٹا نہیں گیا بلکہ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیاگیا ہے۔یوکرین کے معزول صدر نے کہا میں یوکرین کے مستقبل کے لیے دہشت اور خوف کے خلاف جد جہد جاری رکھوں گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یوکرین متحد رہے۔یانوکووچ کا کہنا تھا ملک میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو تشدد پھیلا رہے ہیں۔اس وقت جو ہو رہا ہے وہ سب غیر قانونی ہے اور دہشت گردی ہے۔ پارلیمان میں ہونے والے فیصلے بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔......./169