25 فروری 2014 - 20:30
شاید میں شہادت کے قابل نہیں تھا/ تمام شیعوں سے دعا کی درخواست؛ ہم شرمندہ دختر علی(ع) نہ ہوں: ابوشھد

میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں اور شہادت کے راستے پر چل رہا ہوں۔ میں پوری طاقت و توانائی کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ ہم رہبر شیعیان عالم حضرت امام خامنہ ای کے رکاب میں لڑ رہے ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گزشتہ روز منگل کو عراقی شیعہ جوانوں پر مشتمل لشکر ’’لواء ذوالفقار‘‘ کے جنرل کمانڈر ’’ابوشھد الجبوری‘‘ کی شام میں شہادت کی خبر میڈیا پر شائع ہوئی تھی۔ دریں اثنا ابنا کے دفتر سے اس خبر کی صحت یا عدم صحت کے بارے میں دقیق رپورٹ حاصل کرنے کے لیے ہرچند شام رابطہ برقرار کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ برقرار نہ ہو سکا۔بعد از آں ایران کے وقت کے مطابق ۱۴ بجے لواء ذوالفقار کے ایک مجاہد سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے ابنا کے دفتر کو اتنا بتایا کہ ابوشھد ۴۰ افراد کے ہمراہ قنیطرہ کے علاقے میں تکفیریوں کے ساتھ شدید جھڑپ میں شہید ہو گئے ہیں۔

اس رابطے کے بعد ابنا نے ابوشھد کی شہادت کی خبر شائع کی لیکن اس خبر کے شائع کرنے کچھ ہی وقت بعد ان کے بارے میں متضاد خبریں میڈیا پر شائع ہونے لگیں۔بعض نیوز ایجنسیوں نے ان کے اغوا کئے جانے اور بعض نے شہید ہو جانے کی خبریں شائع کیں۔ ابنا کے دفتر نے اس خبر کی تصدیق کے لیے کماکان اپنی تلاش و کوشش کو جاری رکھا لیکن کسی سے بھی رابطہ برقرار کرنا مقدور نہیں تھا تااینکہ رات گئے شام میں ابوزھیر نامی ایک مجاہد سے رابطہ برقرار ہوا جنہوں نے تحقیق کر کے اطلاع دینے کا وعدہ کیا۔ آخر کار رات کے آخر حصے میں ابوزھیر نے ابنا کے دفتر میں فون کر کے لواء ذوالفقار کے جنرل کمانڈر ابوشھد کی شہادت کی تردید کر دی اور ابوشھد سے ڈائرکٹ رابطے کے لیے ان کا فون نمبر دیا۔ابوشہد کا موبائل نمبر ملنے پر ابنا نے خود اس مجاہد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن فون آوٹ آف ریچ ہونے کی وجہ سے رابطہ مقدور نہ ہوا۔ آخر کار آج بدھ کی صبح کو ابوشھد سے رابطہ ہونے پر جب ’’سلام علیکم اخی‘‘ کی آواز سنی تو سینے میں رکی ہوئی سانسیں رہا ہوئی اور دل کو سکون پہنچا کہ محافظین حرم اہلبیت(ع) اہلبیت(ع) کے فضل و کرم سے ابھی حیات ہیں۔

لواء ذوالفقار کے جنرل کمانڈر سے ابنا دفتر کی فون پر ہوئی مختصر گفتگو کا ترجمہ درج ذیل ہے۔ابنا: کل صبح سے آپ کی شہادت کی خبریں میڈیا پر شائع ہو رہی ہیں آپ اس موضوع سے مطلع تھے؟ابوشھد: جی ہاں، ہم ایک سخت جھڑپ میں پھنسے ہوئے تھے تکفیریوں نے ہمیں محاصرہ کر رکھا تھا۔ دشمنوں نے اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر ہماری شہادت کی خبر پھیلا دی تھی۔ادھر دوستوں سے بھی رابطہ ہوئے کافی عرصہ گزر گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بھی یہی سمجھےکہ ہم شہید ہو گئے ہیں لیکن ابھی تو آپ ہماری آواز سن رہے ہیں۔(ہنستے ہوئے)ابنا: جھڑپ اور محاصرے کا کیا ماجرا ہے؟ابوشھد: ہم اپنے ۷۵ افراد کے ساتھ درعا صوبے کی ایک شیعہ بستی میں غذا اور دوائی وغیرہ سپلائی کرنے میں مصروف تھے کہ تکفیری دھشتگرد ٹولے جیش الحر کو ہماری خبر ہو گئی اور اس درمیان سخت جھڑپ شروع ہو گئی۔جھڑپ اتنی سخت تھی کہ ہمیں اپنی کنڈیشن معلوم نہیں تھی دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن ہم لوگوں نے مزاحمت جاری رکھی یہاں تک کہ پیر کی صبح ۸ بجے ہمیں محاصرہ میں لے لیا گیا۔ابنا: شہادت کی خبر کیسے پھیلی؟ابو شھد: اس سے پہلے کہ جیش الحر ہمیں محاصرہ کرے ہمارے چار مجاہد زخمی ہو گئے تھے جنہیں علاج کی ضرورت تھی ہم انہیں کسی نا کسی طریقے سے محاصرہ سے نکال کر ڈسپنسری تک پہنچانے کی کوشش میں لگ گئے۔ شام میں موجود دوستوں کے بقول اسی دوران میری شہادت کی خبر دشمن کے میڈیا پر شائع ہو گئی۔پھر جب دوستوں نے زخمیوں کو دیکھا اور محاصرہ کی خبر سنی تو انہیں بھی یقین ہو گیا اس وجہ سے شہادت کی خبر بہت جلدی پھیل گئی۔ابنا: آپ محاصرہ کے دوران ناامید نہیں ہوئے؟ابو شھد: ہم نے بی بی حضرت زینب (س) کو بہت سارے شہید دئے ہیں یہ شہدا ہی تھے جنہوں نے اس علاقے کو دشمنوں سے آزاد کرایا اور شیعوں تک کھانا دوائی وغیرہ پہنچائی۔ہم اپنے شہداء پر فخر کرتے ہیں کہ جو اس محاصرے کو توڑنے پر قادر ہوئے اور شیعوں کو تکفیریوں کے محاصرے سے نجات دلائی۔

ابنا: ہم آپ کی سلامتی کی خبر سن کر بہت خوش ہوئے ہیں۔ آپ خود کیا احساس کر رہے ہیں؟ابو شھد: میں اپنے شہید نہ ہونے پر افسوس کر رہا ہوں۔ شاید میں شہادت کی قابلیت نہیں رکھتا تھا۔ ابنا: اگر آپ شہید ہو جاتے اور حضرت زینب (س) کی زیارت سے مشرف ہوتے تو ان کے حضور میں کیا کہتے؟ابو شھد: بہت سخت سوال کیا ہے۔ یہ ان سوالوں میں سے ہے جسے وہی درک کر سکتا ہے جو اس موقعیت میں ہو۔ شاید میں ان سے یہ عرض کرتا کہ میں خوشحال ہوں کہ جو وعدہ آپ سے کیا تھا اسے پورا کرنے میں کامیاب ہوا ہوں۔ابنا: آخری بات؟ابو شھد: میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں اور شہادت کے راستے پر چل رہا ہوں۔ میں پوری طاقت و توانائی کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ ہم رہبر شیعیان عالم حضرت امام خامنہ ای کے رکاب میں لڑ رہے ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں۔میں ایران اور پوری دنیا کے شیعوں سے صرف ایک درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے لیے دعا کریں تاکہ ہم حضرت زینب (س) کے سامنے شرمندہ نہ ہوں اور حریم اہلبیت(ع) کی بنحو احسن پاسداری کر سکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲