ابنا: سید حسن نصراللہ نے بیروت میں یوم شہید کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے اپنے خطاب میں شہدائے مزاحمت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، علاقے کے اسلامی ملکوں کی موجودہ صورت حال کو مزاحمت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی تمام کامیابیوں کے بعد امریکہ و غاصب صہیونی ریاست کی خواہش کا نتیجہ قرار دیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ امریکہ و صہیونی ریاست کی سب سے بڑی خواہش ہی، یہ رہی ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد کا مسئلہ اسلامی ملکوں کی توجہ سے دور ہوجائے۔ انھوں نے لبنان کیلئے صہیونی ریاست کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان پر صہیونی ریاست کے حملے کا بہانہ، اس ملک میں فلسطینیوں کی موجودگی کو بنایا گیا مگر بعد میں سب نے مشاہدہ کیا کہ فلسطینیوں کی واپسی کے بعد بھی صہیونی ریاست نے لبنان میں کتنے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا اور اگر مزاحت نہ ہوتی تو صہیونی ریاست، اپنے جارحانہ عزائم کب کے پورے کرچکی ہوتی۔ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے شام کے علاقے القصیر میں حزب اللہ کی کاروائی اورتحریک مزاحمت کے ہاتھوں تکفیری دہشتگردوں کو حاصل ہونے والی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے سرحدی علاقوں پر اگر دہشتگرد گروہوں کا قبضہ ہوگيا تو لبنان، جہاد کیلئے ایک محاذ میں تبدیل ہوجائیگا۔ انھوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ حق کی راہ میں تحریک مزاحمت ہرحالت میں فتح حاصل کرکے رہیگی بس ہوسکتا ہے کہ اس میں ذرا کچھ وقت لگ جائے۔
.......
/169