15 فروری 2014 - 20:30
افغانستان کے عوامی انقلاب میں روس کو  ملک سے نکال باہر کرنے کا اصلی محور دین تھا

افغانستان کی پارلیمنٹ کے ممبر نے روسی فوجیوں کی افغانستان میں شکست کی سالگرہ کے موقعے پر اظہار خیال کیا کہ روسی فوجی اپنی مرضی سے افغانستان چھوڑ کر نہیں گئے بلکہ لوگوں کی اعتقادی اور اسلامی بنیادیں روس کی شکست کا باعث بنیں ۔

ابنا:  افغانستان پارلمنٹ کے رکن جناب غلام حسین ناصری   نے کابل میں فارس نیوز کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں ۲۶ بھمن ۱۳۶۷ مطابق15فروری1989 میں  افغا نستان میں روس کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ روس کے فوجی اس ملک کے عوام کے دین اسلام پر کامل اعتقاد کی بنا پر اس ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے مزید کہا : ملت افغانستان نےمکمل دینی اعتقاد کے ساتھ روس جیسی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے اور بھاگ جانے پر مجبور کر دیا اور اس سلسلے میں افغانستان کے لوگوں کےقیام  کا سب سے بڑا محرک دین ہی تھا ۔ناصری کو یقین ہے کہ دین پر اعتقاد خاص کر تسلط پسند طاقتوں کےخلاف جنگ میں کافر ملکوں اور قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب رہا ہے ۔روس نے افغانستان میں انگریزوں کی شکست سے سبق نہیں لیا۔ناصری نے آگے چل کر اظہار کیا کہ روسی فوجوں کی شکست کی وجہ سے افغانستان کے لوگوں کا دین اسلام پر عقیدہ پورے ملک میں نمایاں ہو گیا۔ یہ ایسی حالت میں ہوا کہ افغانستان میں روس کی فوجی شکست کے بعد چرچیل،اس وقت کے انگلستان کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ انگلستان روس کی حکومت سے زیادہ افغانستان کے لوگوں کے اعتقادات  اور خود ان کے بارے میں جانتا ہے  جس طاقت نے بھی افغانستان پر حملہ کیا وہ بدنام ہو کر اس ملک سے نکلنے پر مجبور ہوئی ہے۔اس کے بقول، چرچیل نے یہ بھی کہا تھا  کہ اگر روسی افغانستان پر قبضہ کرنے سے پہلے ہم سے مشورہ کرتے تو ہم ان کو کبھی بھی افغانستان پر قبضہ کرنے کا مشورہ نہیں دیتے اس لیے کہ یہ لوگ دین اسلام پر اعتقاد رکھتے ہوئے ہر طاقت کو ہرا کر دم لیتے ہیں ۔روس کے فوجی افغانستان میں سازو سامان کی کمی کی مشکلات سے روبرو ہوئے :افغانستان کی پارلیمٹ کے ممبر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ افغانستان کی قوم نے روس کے فوجیوں کا آخری دم تک مقابلہ کیا اور ساز وسامان لانے والے تمام راستے بند کرکے سرخ فوج کو ہتھیاروں اور ضروری سامان کی کمی کی مشکل سے روبرو کر دیا جس کے نتیجہ میں روس افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہو گیا اور ایک اسلامی ملک کے مقابلہ میں اس کی پیشانی پر بد نامی کا داغ لگ گیا ۔مجاہدین کی ہار کے پیچھے خارجیوں کا ہاتھ :نیوزنور کے مطابق ناصری نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ افغانستان میں روس کی فوجی شکست کے بعدافغان مجاہدین نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی لہذا خارجی ممالک اور مداخلت کرنے والوں نے اس بڑی کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے کے لیے  مجاہدین کی صفوں میں مداخلت اور نفاق کا بیج بونا شروع کردیا  ۔اس نے مزید کہا کہ مغربی ملکوں نے مجاہدین کی صفوں میں رخنہ ایجاد کرکے افغانستان  کے استقلال اور اس کی طاقت کے ختم کرنے کا کام شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں اس ملک میں امریکی اور مغربی فوجیوں کی مداخلت کا راستہ ہموار ہو گیا ۔یہ سب کچھ ایسی صورت میں ہوا ہے کہ افغانستان کی ملت اور حکومت ہر سال  روسی فوجیوں کے افغانستان سے نکل جانے کی  خوشی میں جشن مناتی ہے البتہ ہم یہ یقین دلا دیں کہ  کوئی بھی طاقت جو افغانستان پر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچے گی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲