ابنا: پاکستان پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے ٹھٹہ میں سندھ فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ مذاکرات کی رٹ لگانے والے غور کریں کہ وہ کن دہشت گردوں سے بات چیت کررہے ہیں اور ان مذاکرات کے نتیجے میں پھر قوم کی بیٹیاں ملالہ کی طرح اور قوم کے بیٹے اعتزاز کی طرح نشانہ بن جائیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان میں پتھر کا دور چاہتے ہیں ہم 5 ہزار سال قبل بھی مہذب تھے اور آج بھی مہذب ہیں۔ دہشت گردی، فرقہ واریت اور منافرت اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے جب ہم اپنی حقیقت سے واقف ہوں۔ ہمیں کسی کے رنگ میں رنگنے کی ضرورت نہیں، ہمارا اپنا رنگ اس قدر گہرا ہے کہ جسے کسی طرح کی دہشت گردی کی سونامی نہیں دھو سکتی۔ اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے سندھ فیسٹیول کا اہتمام کیا تاکہ ہم پوری دنیا کو بتاسکیں ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ ہم یوتھ فیسٹیول بھی کرسکتے ہیں، آسکر بھی جیت سکتے ہیں اوراسی سرزمین پر ڈاکٹر عبدالسلام جیسے نوبل انعام یافتہ سائنسدان بھی پیدا ہوتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم اسلام کے سپہ سالار ہیں اور ان کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں جو ہمارے بہادر سپاہیوں کو شہید کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں خاموش کرادیں گے لیکن انہیں اس وقت سے ڈرنا چاہیئے جب قوم ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی اور انہیں بھاگنے کا راستہ تک نہیں ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کچھ لوگ مذاکرات کی رٹ لگاتےنہیں تھکتے، بدقسمتی سے یہ لوگ ایسے لوگوں کی حمایت کررہے ہیں جن کا نہ تو اسلام اورنہ اس کی اقدار سے کوئی تعلق ہے۔ مذاکرات کےحامی عالمی نزاکتوں کوسمجھیں، ہم دنیا میں تنہا ہوچکے ہیں۔ دہشت گرد وہی لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی۔ ہم کیسے مان لیں کہ یہ قاتل اور دہشت گرد لوگ ، اسلام کے وارث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کرنے والے بات چیت ضرور کریں مگر وہ یہ بھی دیکھیں سوات میں امن معاہدے کو کیسے سبوتاژ کیا گیا اور پھر وہاں حکومت نے اپنی رٹ کس طرح قائم کی تھی۔ ہمارے مسائل اس قسم کے مذاکرات سے حل ہونے والے نہیں، ان مذاکرات کے نتیجے میں قوم کی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوگا جس طرح ملالہ یوسف زئی کے ساتھ ہوا اور قوم کے بیٹے اعتزاز کی طرح نشانہ بن جائیں گے۔ ہمارے تہوار میلے اور عرس سب جہالت کی نذر ہوجائیں گے۔ دہشت گرد مزار قائد اور مزار اقبال کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جووہ زیارت میں بابائے قوم کی آرام گاہ کے ساتھ کرچکے ہیں لیکن ہم اپنی زمین کو طالبان کے کسی جاہل فرد اور حامی کے حوالے نہیں کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اسلام انسانیت کی خدمت کا نام ہے،اسلام یہ ہے کہ جب پورا ملک بے نظیر بھٹو کی شہادت پر لہو میں ڈوبنے والا تھا توآصف علی زرادری نے ملک میں لگی آگ کو بجھا دیا۔ اسلام کے بارے میں ہمیں بتانے کی کوشش نہ کی جائے، ہم شریعت کا مطلب بھی جانتے ہیں ہمیں سکھانے کی کوشش نہ کی جائے، اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہنا ہے تو اس ملک کے قانون کی پابندی کرنا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو اگر شریعت سیکھنی ہے تو ہم سے آکر سیکھیں بےگناہ عوام کی زندگي پر ڈاکے ڈالنا اور انھیں قتل عام کرنا شریعت نہیں بلکہ شریعت انسانیت کی حفاظت کا نام ہے۔
.......
/169