ابنا: شامی وزیر خارجہ ولید المعلم اور روس کے نائب وزیر خارجہ گینارڈی گاٹل اف نے جنیوا میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ دمشق اور ماسکو درمیان باہمی تعاون اس ملاقات میں اہم موضوع تھا۔
المعلم نے دونوں ممالک کے سینئر عہدیداروں کے درمیان گفتگو کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔
شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام اور روس کے درمیان باہمی تعاون پر بات چیت مفید رہ اور میں اس تبادلہ خیال کے نتایج سے خوش ہوں۔
ولید المعلم نے مزید کہا کہ جنیوا-2 کانفرنس کے دوسرے مرحلے کی 10 فروری کو شروع ہوئی امن بات چیت سے متعلق امور پر بھی روسی عہدیدار کے ساتھ گفتگو ہوئی۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے بھی شام میں تقریبا گزشتہ تین برسوں سے جاری بحران کے سیاسی حل پر زور دیا۔
گاٹیل اف نے کہا کہ یہ لمحات بہت ہی حساس ہیں اور ہمیں یہ پورا یقین ہے کہ شام میں تشدد کے خاتمے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مستقبل کی خوشحالی کے لیے حالات سازگار بنانے کے لیے سیاسی حل ہی صرف ایک راستہ ہے۔
جنیوا مذاکرات میں شامی حکومت کا بھی یہی اصرار ہے کہ سب سے زیادہ ترجیح ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دینی چاہیے۔
دریں اثناء اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ روس نے شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کے مسودے کے مقابلے میں تجاویز کی پیشکش کی ہے۔
روس نے شام میں تشدد میں ملوث عسکریت پسند گروہوں کے حامی مغرب اور عرب ممالک کے تیار کردہ مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اسے یک طرفہ اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف قرار دیا تھا۔
.......
/169