ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کےجوہری ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے مہر نیوز کے ساتھ گفتگو میں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ 7 شقوں پر مشتمل اتفاق کے بارے میں کہا ہے کہ ایران ، بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کےصرف ان سوالات کا جواب دےگا جو مستند ہوں گے اورایران ایٹمی ایجنسی کے ہمیشہ غیر مستند اور جدید سوالات کے جوابات دینے کا پابند نہیں ہوگا۔ صالحی نے کہا کہ ہم نے ایک مشخص دائرے میں قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور سات سوالات یا شقوں میں سے 5 کے بارے میں اتفاق ہوگيا ہے۔
صالحی نے کہا کہ ہم نے ایٹمی ایجنسی پر واضح کردیا ہے کہ ایران ایسا ہر گز قبول نہیں کرےگا کہ کوئي ایٹمی ایجنسی کے پاس کاغذ کا ردی ٹکڑا لے کر آئے اور یہ کہے کہ ہمیں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اعتراض ہے ہم ایسے بے بنیاد اعتراض کو قبول نہیں کریں گے اعتراض کو مستند اور مشخص ہونا چاہیے ورنہ ایٹمی ایجنسی تو ہر روز ہمارے لئے بے بنیاد اور غیر معتبر سندیں لائے گي لہذآ سند کی حقیقت اور سند پیش کرنے والا واضح ہونا چاہیے.
صالحی نے کہا کہ بغیر سند کے کسی پر الزام عائد کرنا بہت آسان ہے اور بغیر سند کے الزام کو کوئی عاقل قبول بھی نہیں کرسکتا۔
.......
/169