9 فروری 2014 - 20:30
عباس عراقچي: ایران کا میزائل سسٹم ریڈ لائن اور قابل مذاکرات نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی معاملے کے اعلی مذاکراتکار نے کہا ہے کہ اگر گروپ1+5 مذاکرات میں سنجیدگي، حسن نیت اور صداقت کا مظاہرہ کرے تو ایران کے ایٹمی معاملے کا چند ماہ میں جامع حل تلاش اور اقتصادی پابندیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی معاملے کے اعلی مذاکراتکار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر گروپ1+5 مذاکرات میں سنجیدگي، حسن نیت  اور صداقت کا مظاہرہ کرے تو ایران کے ایٹمی معاملے کا چند ماہ میں جامع حل تلاش اور اقتصادی پابندیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنیوا معاہدے کے مطابق پہلا قدم پروگرام کے مطابق آگے کی سمت بڑھ رہا ہے اور فریقین نے مقررہ وقت یعنی 20 جنوری میں جنیوا معاہدے کے مطابق اقدام کیا اور ایران کے اقدامات کی بین الاقوامی جوہری ادارے نے بھی تصدیق اور توثیق کردی۔ عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور ویانا میں 17 فروری کو منعقد ہوگا۔ عراقچی نے کہا کہ گروپ 1+5 کے ساتھ ایران کے مذاکرات اور ایٹمی ایجنسی کے ساتھ  ایران کے مذاکرات میں فرق ہے ایٹمی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات این پی ٹی معاہدے کی روشنی میں جاری ہیں جبکہ گروپ 1+5 کے ساتھ ہمارے مذاکرات کا مقصد گروپ 1+5 کو ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں لاحق تشویش کو برطرف کرنا ہے  انھوں نے کہا کہ ایران گروپ 1+5 کی تشویش دور کرنے کے لئے حسن نیت سے کام لے رہا ہے لیکن امریکہ کی رجز خوانی کا سلسلہ جاری ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں سازش کررہا ہے انھوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتکار ایران کی ریڈ لائنوں سے ہر گز عبور نہیں کریں گے اور ایران کا میزائل نظام ایران کی ریڈ لائنوں میں شامل ہے۔

.......

/169