ابنا: عراقي پارليمنٹ ميں دفاع اور سيکورٹي کميشن کے چئيرمين حسن السنيد نے سعودي فرمانروا شاہ عبداللہ کے اس فيصلے کے ردعمل ميں جس ميں انہوں نے کہا کہ جو بھي سعودي شہري بيرون ملک دہشت گردي ميں ملوث پايا جائے گا اس کو سزا دي جائےگي کہا کہ اس بيان کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے.عراقي پارليمنٹ ميں دفاع اور سيکورٹي کميشن کے چئيرمين نے کہاکہ آل سعود حکومت اور سعودي عرب کي انٹليجنس ايجنسياں شام لبنان اور عراق ميں دہشت گردوں کي حمايت کررہي ہيں - انہوں نے کہا کہ عراق ميں سعودي دہشت گردوں کي موجودگي ، عراقي فوجيوں کے ہاتھوں گرفتار کئے گئے سعودي دہشت گرد اور فوج و سيکورٹي فورس کي کاروائيوں ميں کافي تعداد ميں ہلاک ہونے والے سعودي دہشت گردوں کي لاشيں اس ناقابل انکار حقيقت کا واضح ثبوت ہيں.عراقي پارليمنٹ کے دفاعي کميشن کے چئرمين حسن السنيد نے کہا کہ سعودي عرب فقط عالمي دباؤ کي وجہ سے اپنے ان شہريوں کو سزا دينے کي بات کررہا ہے جو بيرون ملک دہشت گردانہ کاروائيوں ميں ملوث ہيں- انہوں نے کہا کہ آل سعود حکومت اپنے اس قسم کے تشہيرتي بيان سے اپنے او پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا چاہتي ہے- انہوں نے کہا کہ جو ملک دہشت گردي کا مقابلہ کرنے ميں سنجيدہ نہ ہو وہ خود سے اس قسم کا فيصلہ نہيں کرسکتا.
.......
/169