ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران اور پانج جمع ایک گروپ کے مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیئے کہ ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم ہوجائیں۔ وزیر خارجہ نے آج تہران میں سویڈین کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پابندیوں کے ساتھ گفتگو قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی پابندیاں ایٹمی مسئلے کے حل میں کوئي مدد نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں کا ہی نتیجہ ہے کہ سینٹری فیوج مشینوں کی تعداد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئي اور ان پالیسیوں سے ایرانی قوم کی بدگمانی میں اضافہ ہوتا گیا جن کی بدولت ملت ایران کو غذائي اشیاء اور دوائيں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ مسائل کے حل کی کوشش کرے مگر ایران پر دباؤ ڈالنے کی نہیں کیونکہ یہ دباؤ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو جنیوا کے چوبیس نومبر کے معاہدے کو بنیاد بناکر کوئي بات کرنی چاہیئے ورنہ اس کی بات کا کوئي قانونی اعتبار نہیں رہے گا۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں سویڈن کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے اس حق پر تاکید کرتا ہے کہ تہران کو پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جامع معاہدہ پابندیوں کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
3 فروری 2014 - 20:30
News ID: 503006
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران اور پانج جمع ایک گروپ کے مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیئے کہ ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم ہوجائیں۔