ابنا: ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں انسداد دہشتگردی کے نئے قانون کے تحت آل سعود کی حکومت پر کسی طرح کا اعتراض، تنقید اور مخالفت کرنا ممنوع قراردیا گيا ہے۔ اس قانون کو گذشتہ روز سے نافذ کردیا گيا ہے۔ آل سعود کے نئے انسداد دہشتگردی قانون کی رو سے سکیورٹی فورسیز کو یہ اجازت ہوگي کہ وہ کسی بھی مشتبہ فرد کو گرفتار کرکے چھے ماہ تک قید میں رکھ سکتی ہیں۔ سعودی عرب میں یہ قانون ایسے حالات میں منظور کیا گیا ہے کہ آل سعود، کھلم کھلا ساری دنیا میں دہشتگردوں کی مالی اور فوجی حمایت کررہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب میں نئے انسداد دہشتگردی قانون سے آزادئی بیان، محدود ہوجائےگا اور بغیر کسی نگرانی کے پولیس کے اختیارات میں کافی وسعت آجائے گي۔ ہیومن رائٹس واچ نے سعودی شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے خلاف لاگو پابندیاں کم کرے۔ واضح رہے کہ آل سعود کی حکومت نے گذشتہ دو برسوں کے دوران پرامن مظاہرے کرنے والوں پرحملے کرکے سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور انہیں بغیر کسی مقدمے کے جیلوں میں رکھا جارہا ہے۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اس وقت آل سعود کی کال کوٹھریوں میں تیس ہزار قیدی موجود ہیں جنہيں بغیر کسی مقدمے کے برسوں سے قید میں رکھا گيا ہے۔
.......
/169