اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم شامی تکفیریوں کے مفتی "عدنان العرعور" اور دیگر وہابی ـ تکفیری دہشت گرد مفتیوں کو ان دنوں ان کی اولاد کی عیاشیوں کے حوالے سے مختلف قسم کے سوالات کا سامنا ہے جن کے بچے یورپ میں عیاشیاں کررہے ہیں جبکہ وہ عرب نوجوانوں کو جہاد کے نام پر شام میں دہشت گردی کی ترغیب دلانے میں مصروف ہیں۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کے صارفین سلفی ـ تکفیری مفتی عدنان العرعور کی ایک ویڈیو وسیع سطح پر شیئر کررہے ہیں۔ اس ویڈیو میں دہشت گردوں کا مفتی قلمکار اور ٹی وی اینکر "داؤد الشریان" کا جواب دیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ الشریان نے حال ہی العرعور اور اس جیسے دوسرے تکفیری ـ وہابی مفتیوں پر تنقید کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو عرب ممالک کے نوجوانوں کو شام بھجوا کر دہشت گردانہ کاروائیوں میں شرکت کی ترغیب دلاتے ہیں جبکہ ان کے اپنے بچے یورپی ممالک میں عیاشیاں کررہے ہیں۔ الشریان ان سے پوچھتے ہیں: تم جو دوسروں کو شام جاکر نام نہاد جہاد میں شرکت کی دعوت دے رہے اپنے بچوں کو کیوں شام نہيں بھجواتے ہو؟ الشریان نے ٹویٹر پر اپنے پیج پر لکھا: عدنان العرعور اور ان کے بچے تجارت کررہے ہیں، وہ شام میں جہاد کے عنوان سے رقوم اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں اور اپنے گھروں میں گرم بستروں پر سو رہے ہیں جبکہ ہمارے بچے شام میں دہشت گروپوں کی لڑائی میں مارے جارہے ہیں۔ الشریان مزید لکھتے ہیں: میں پوچھتا ہوں کہ العرعور اور اس کے بچے خود کیوں شام نہيں جاتے اور وہ اور اس کے بچے خود جاکر شام میں کیوں سرگرم نہيں ہوجاتے؟ کس نے العرعور کو ہماری سرزمین (سعودی عرب) میں سرگرمیاں دکھانے کی اجازت دی ہے اور کس نے اس کو ان سرگرمیوں کے لئے سہولت فراہم کی ہے؟ العرعور نے بھی الشریان کے جواب میں نہایت عجیب اور شرمناک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بچے اس کی اطاعت نہیں کرتے اور وہ میری باتیں سننے کے بجائے پیرس چلے گئے ہیں! العرعور نے ایک ٹی وی پروگرام میں دعوی کیا: اس کے باوجود میرے بچے زخمیوں کو نجات دلانے کے لئے میرے ساتھ ہیں!۔ اس وہابی ـ تکفیری مفتی نے کہا: میرے بچے جہاد کے سلسلے میں میری اطاعت نہيں کرتے اور انھوں نے مجھ سے کہا ہے کہ یا تو ہم بھی آپ کی طرح ذرائع ابلاغ میں کام کریں گے یا پھر زخمیوں کو مدد پہنچائیں گے یا پھر پیرس چلے جائیں گے۔ عرعور نے "شامی عوام کے امداد رسانی" کے عنوان سے ٹویٹر پر ای بینک اکاؤنٹ نمبر متعارف کرایا ہے لیکن بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ "کون ان حسابات کی نگرانی کررہا ہے اور العرعور کو یہ امداد اکٹھی کرنے کی اجازت کس نے دی ہے؟ ادھر شام میں نام نہاد "جہاد" کے وہابی ـ تکفیری مبلغین ـ بالخصوص "محمد العریفی" اور "سلمان العودہ" کے بھی داؤد الشریان کے ساتھ ابلاغی جھگڑوں میں الجھ گئے ہیں اور یہ تنازعہ اب نئی شکل اختیار کرگیا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ عرب نوجوانوں کی اکثریت اس طرح کے ٹی وی پرگراموں میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ فتنہ پرور تکفیری مولویوں کا اصل چہرہ زیادہ سے زیادہ بےنقاب ہوسکے اور ان کے جھانسے میں آئے ہوئے عرب نوجوان ـ بالخصوص سعودی نوجوان ـ ان مفتیوں اور ان کے نام نہاد جہاد کی حقیقت سے آگاہ ہوسکیں۔ العرب آنلاین نے بعض صارفین کی آراء کو نقل کرتے ہوئے لکھا: بعض صارفین نے لکھا ہے: ٭ ہماری حکومت ایسے افراد کو لگام دے جو مفتی اور مبلغ کہلواتے ہیں۔ ٭ البریک، القرضاوی اور العواجی کے بچے کہاں ہیں؟ ہمارے بھائیوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ ٭ العریفی شام کو "سرزمین جہاد" کا نام دے رہا ہے؛ وہ خود کیوں سرزمین جہاد کی طرف عزیمت نہیں کرتا؟ وہ تو جوان بھی ہے اور لڑ بھی سکتا ہے! ٭ البریک جو ہمارے نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے، خود کیوں جہاد کے لئے نہیں جاتا؟ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ سب سے پہلے خود جہاد کے لئے آگے بڑھتے تھے اور میدان جنگ میں اترا کرتے تھے، لیکن نام نہاد جہاد کے یہ مفتی اور اور ان کے بچے لندن اور تھائی لینڈ میں جہاد کررہے ہیں! ٭ بعض سعودی نوجوان اپنا سب کچھ بیچ کر "جہاد" کے نام پر شام چلے جاتے ہیں اور جب وہاں پہنچتے ہیں وہں انہيں ایسیے گینگز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو جہاد کے نام پر ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے صاف کررہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم اس وقت کے منتظر ہیں جو مفتیان فتنہ اور فتنہ پرور مبلغین منہ بند کرکے خاموش ہوجائیں۔ ٭ شام کی جنگ نے بعض مبلغین کو "سٹار" بنایا ہوا ہے جو آگ بھڑکا رہے ہیں تا کہ وہ سٹار رہ سکیں؛ ہم جاگیں گے کب؟ ٭ سعودی مبلغین جانتے ہیں کہ شام کی جنگ ایک فتنہ ہے جو مسلح گینگز کی باہم لڑائی میں تبدیل ہوچکا ہے لیکن وہ یہ حقیقت بیان کرنے سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی مقبولیت کھوجانے کا خدشہ ہے۔ ٭ جہاد ہوگا تو بیت المقدس کی آزادی کے لئے ہوگا یا پھر اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے ہوگا، تقوائے الہی اپناؤ، فتنوں سے دوری اختیار کرو کیونکہ فتنہ عقل کو زائل کردیتا ہے اور آگ و خون اور ویرانی و تباہی مچاتا ہے۔ ٭۔ اگر العریفی، العودہ اور العواجی خود جہاد کے لئے شام چلے جائیں تو وہ ہر ایک کو دس لاکھ ریال انعام دے گا۔ الشریان نے ٹی وی چینل "ایم بی سی" پر اپنے پروگرام "الثامنہ" (آٹھ بجے) میں محمد العریفی، سعد البریک اور سلمان العودہ اور العواجی پر الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کو دھوکا دے کر انہیں شام بھجوا رہے ہیں۔ اس الزام کا جواب دینے سے عاجز و بےبس العودہ نے کہا ہے کہ اگر الشریان اس سے معافی نہ مانگے تو وہ عدالت جاکر اس کے خلاف مقدمہ دائر کرے گا۔ العریفی، محسن العواجی اور سعد البریک نے الشریان کو مورد الزام ٹہرا کر کہا ہے وہ ان کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
تکفیری مفتی سے ایک سوال:
اپنےبیٹوں کوجہاد کےلئے نہيں بھیجتے؛ تکفیری مفتی: وہ پیرس جانا پسند کرتے ہیں
31 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 502128
سعودی اینکر داؤد الشریان: مفتی صاحب تمہارے بچے پیرس اور لندن میں عیاشی کررہے ہیں جبکہ تم نوجوانوں کو ورغلا کر شام بھجواتے ہو اور انہیں جہاد کی ترغیب دلاتے ہو! ہمارا سوال یہ ہے کہ تم اپنے بچوں کو کیوں جہاد کے لئے نہیں بھجواتے؟ عرعور نے جواب دیتے ہوئے کہا: میرے بچے میرے اطاعت گزار نہيں ہیں وہ بس پیرس جانا پسند کرتے ہیں!!