ابنا: معروف سیاسی تجزیہ نگار عیسیٰ چائر نے کہا ، علاقے جو دہشتگردوں سے پاک ہے اور حکومت کے کنٹرول میں ہے میں شامی حزب اختلاف کا پلیٹ فارم بہت ہی کمزور ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر غیر ملکی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت سی جائےتو یہ وہاں بحران پیدا کرکے ڈراونی طاقتوں کو جنم دیکر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیں گے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ شامی عوام کو ہی ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہئے اور شامی حزب اختلاف کو اپنا یہ نقطہ نظر مسلط نہیں کرنا چاہئے کہ دمشق میں حکومت کون چلائے گا۔
عیسیٰ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ہر طرف سے داخل ہورہے دہشتگرد تباہی کا باعث بن رہے ہیں جو فقط شام کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے خطرناک ہے۔ شام میں مارچ 2011 سے بد امنی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس بحران کو حل کرنے کیلئے 22 جنوری2014 سے سوئزرلیند کے شہر جینوا میں امن کانفرنس جا ری ہے۔ شامی حزب اختلاف شامی صدر بشارالاسد کی اقتدار سے بے دخلی اور عبوری حکومت قائم کرنے پر زور دے رہی ہیں تاہم دمشق نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف اس ملک کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔
.......
/169