ابنا: ابراہیم حمیدی نے کہا کہ قاتل زابل کے پراسکیوٹر کو قتل کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوگيا تھا لیکن وسیع چھان بین کے بعد اس کے خفیہ اڈے کا پتہ لگا کر گرفتار کرلیا گيا۔ ابراہیم حمیدی نے کہا کہ گرفتار شدہ قاتل سے تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زابل کے پراسکیویٹر جنرل کے قتل کيس میں اب تک گيارہ افراد کو حراست میں لیا گيا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ برس چھے نومبر کو زابل کے پراسکیوٹر جنرل موسی نوری ایک مسلح شخص کی فائرنگ میں اپنے ڈرائیوسمیت شہید ہو گئے تھے۔
.......
/169