ابنا: کالعدم و دہشت گرد تنظیموں نے پنجاب سمیت ملک بھر میں 850 سے زائد اپنے ذمہ داران و سرگرم کارکنوں کی پوزیشنیں اور ذمہ داریاں فوری طورپر تبدیل کردیں جبکہ بعض کالعدم تنظیموں نے اپنے کئی عہدیداروں کو ایک سے دوسرے صوبہ میں تبدیل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیموں کے 300 سے زائد سرگرم کارکنوں نے اپنا حلیہ بھی تبدیل کر لیا اور شناخت سے بچنے کیلئے ایسے لباس پہن لئے جن کے بارے میں وہ پہلے دوسروں کو منع کرتے آئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پینٹ، شرٹ، جینز اور جوگر پہن لئے جبکہ کلین شیو بھی کرا لی، ان میں 150 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں جو برقعہ چھوڑ کر ماڈرن لباس میں اپنے اہداف کی طرف روانہ ہوگئیں، بیشتر دہشت گردوں کے پاس موبائل فون نہیں لیکن وہ روزانہ ایک مخصوص جگہ اکٹھے ہوکر معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور وہیں پر انہیں نئے احکامات بھی ملتے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومتی لائحہ عمل بدلنے پر طالبان نے بھی کارروائیوں کیلئے نئی حکمت عملی بنالی اور اس حوالے سے لوئر دیر میں گزشتہ روز اہم اجلاس ہوا جس میں سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی، اجلاس کے دوران صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، گورنر ہاؤسز، مارکیٹوں اور دیگر اہم مقامات کے نقشے سامنے رکھ کر اہداف پر نشانات لگائے گئے جبکہ کئی اہم شہروں کیلئے دہشت گرد روانہ کر دئیے گئے۔ دوسری جانب دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے سکیورٹی اداروں نے بھی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے کسی بھی مشکوک شخص کو پکڑ کر فوری نامعلوم جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے حکام نے بتایا کہ صوبہ میں دہشت گردوں کے گھسنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ اب دہشت گردوں کیساتھ کسی طرح کی نرمی نہیں برتی جائیگی۔
.......
/169