اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،حشد الشعبی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے عراقی عدلیہ سے ضروری قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد کرکوک میں کارروائی کی اور عدالتی اداروں کو مطلوب شخص کو حراست میں لے لیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی قابلِ اعتماد اور درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے پہلے مطلوب شخص کی موجودگی کے مقام کی نشاندہی کی اور اس کے بعد قانونی ضابطوں کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اسے بغیر کسی قابلِ ذکر مزاحمت کے گرفتار کرلیا۔
حشد الشعبی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار شخص کے داعش کے متعدد سابق ارکان اور کمانڈروں کے ساتھ روابط رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ گرفتار شخص کا ایک چچا ماضی میں داعش کے زیرِ انتظام نام نہاد ’’ولایتِ دجلہ‘‘ کے والی کے عہدے پر فائز رہ چکا ہے۔ حشد الشعبی کے مطابق اس پس منظر کی وجہ سے مذکورہ شخص کی گرفتاری کو سیکیورٹی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حشد الشعبی نے بتایا کہ گرفتار شخص کو متعلقہ ادارے کے حوالے کردیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ اس کا مقدمہ مزید تحقیقات مکمل کرنے اور قانونی مراحل طے کرنے کے لیے متعلقہ عدالتی حکام کو بھیج دیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ