ابنا: يہ بات وزارت خارجہ کي ترجمان مرضيہ افخم نے اپني ہفتہ وار پريس کانفرنس کے دوران ملکي اور غير ملکي نامہ نگاروں کے سوالوں کے جوابات ديتے ہوئے کہي- انہوں نے کہا کہ دباؤ ميں آکر ايران سے اس کانفرنس ميں شرکت کا دعوت نامہ واپس لينا انتہائي افسوسناک ہے۔مرضيہ افخم نے ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان طے پانے والے جوائنٹ ايکشن پلان پر عملدرآمد کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پير کے روز سے اس معاہدے کے فريقوں نے عملدرامد شروع کرديا ہے اور اب بعد کے اقدامات، فريقين کے مذاکراتي ايجنڈے ميں شامل ہونگے.ايران کي وزارت خارجہ کي ترجمان نے واضح کيا کہ ايران کے جوہري حقوق کا تحفظ اور جوہري ٹيکنالوجي رکھنے کے نئے مرحلے کا آغاز اور اس حوالے سے ايران کي تحقيقات کو محفوظ رکھنا ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان مذاکرات کے مسلمہ اصول ہيں-
.......
/169