ابنا: انھوں نے ایران کے اخبار اعتماد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا کوئی بھی ایسا قدم، جو ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے جنیوا کے جوہری سمجھوتے کے خلاف ہوگا، مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کردے گا۔ حمید رضا آصفی نے فریقین کی جانب سے طے پانے والے سمجھوتے پے سنجیدگی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات بارہا ثابت ہوچکی ہے کہ دھونس دھمکی ، طاقت کے استعمال کی کوشش اور یا کسی بھی غیر منطقی اقدام کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے اور تہران کے حتمی جوہری سمجھوتے کے حصول کیلئے فریقین کی جانب سے نیک نیتی کے ساتھ مفاہمت کے عمل کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کئے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ سمجھوتے کی ناکامی کا ذمہ دار، اس کی خلاف ورزی کرنے والا فریق ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ایران اور گروپ پانچ جمع ایک درمیان جنیوا کے جوہری سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر دو طرفہ عملدرآمد کے طریقوں کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہے اور آئندہ بیس جنوری سے اس پر عملدرآمد شروع ہورہا ہے جس کے نتائج کے بارے میں عالمی حلقوں میں کافی امیدیں کی جارہی ہیں۔
.......
/169