ابنا: انہوں نے پیر کی رات اپنے لبنانی ہم منصب عدنان منصور کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ علاقے کے عوام کو مشترک خطروں کا سامنا ہے جن میں سب سے خطرناک دہشتگردی اور انتہا پسندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطرہ پورے علاقے کو نشانہ بنائے ہوئے اور مشترکہ کوششوں سے ہی اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علاقے کے تمام ملکوں خاص طور پر ہمسایہ ملکوں سے تعلقات میں فروغ ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقے میں امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بحران شام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا شام کا بحران، شامی عوام کے ذرئعے ہی ہونا چاہئے اور پیش شرط رکھنے سے شامی فریق سیاسی حل تک نہیں پہنچ سکتے۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ شام کے بارے میں جنیوا-2 کانفرنس میں شرکت کے لئے ایران ہر پیشگی شرط کو مسترد کرتا ہے، کہا کہ جو بھی جنیوا-2 کانفرنس میں ایران کی شرکت کا مخالف ہے وہ مستقبل میں پشیمان ہوگا کیونکہ سیاسی حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کوشش کے لئے اسے کوئی شرط قبول نہیں ہے۔اس موقع پر لبنان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے شام اور علاقے کی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے جنیوا-2 میں ایران کی شرکت کو اہم بتاتے ہوئے کہا کہ ایران علاقے کا بااثر ملک ہے۔
.......
/169