11 جنوری 2014 - 20:30
صبرا اور شتيلا کے قصاب کو سزا نہ ملنے پر اظہار افسوس

انساني حقوق کي عالمي تنظيم ہيومن رائٹس واچ نے صبرا اور شتيلا کے قصاب کے، جرائم کي سزا پائے بغير مرجانے پر افسوس ظاہر کيا ہے.

ابنا: انساني حقوق کي عالمي تنظيم ہيومن رائٹس واچ ميں مشرق وسطي اور شمالي افريقا کي ريجنل ڈائريکٹر سارا لي وٹسن نے کہا ہے کہ  ايريئل شيرون نے صبرا اور شتيلا کے قتل عام کے علاوہ بھي بے شمار انسانيت سوز جرائم کا ارتکاب کيا تھا -انہوں نے کہا کہ عالمي برادري کے لئے  بڑے  شرم کي بات ہے کہ جنگي اور انسانيت کے خلاف جرائم پر اس جلاد پر مقدمہ نہيں چلايا گيا اور وہ اس دنيا سے چلا گيا-سارا لي وٹسن نے کہا کہ دستاويزات ثابت کرتي ہيں کہ  رہنما ياسر عرفات کے قتل ميں بھي شيرون کا ہاتھ تھا-انہوں نے کہا کہ شيرون جرائم پيشہ جلاد تھا، ياسر عرفات اور ہزاروں فلسطينيوں کا قاتل تھا اور ہميں اميد تھي کہ اس پر بين الاقوامي فوجداري عدالت ميں جنگي جرائم کا مقدمہ چلايا جائے گا ليکن ايسا نہيں ہوا -ياد رہے کہ  صبرا اور شتيلا کے قتل عام کا ذمہ دار اور ہزاروں فلسطينيوں کا قاتل ، صيہوني حکومت کا سابق وزير اعظم  ايريئل شيرون آٹھ سال تک کوما ميں رہنے کے بعد  سنيچر کو مرگيا- ايريئل شيرون کي موت کي خبر سنتے ہي غزہ اور غرب اردن ميں عوام  سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے خوشياں منائيں -   ايريئل شيرون نے يوں تو بے انتہا وحشيانہ جرائم کا ارتکاب کيا تھا ليکن فلسطينيوں اور مسلم اقوام ميں وہ صبرا اور شتيلاکے قصاب کے نام سے جانا جاتا تھا -اس نے انيس سو بياسي ميں سولہ ، سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو لبنان کے دارالحکومت بيروت ميں صبرا اور شتيلا نامي فلسطيني کيمپوں پرلگاتار تين دن تک  حملہ کرکے ساڑھے تين ہزار سے پانچ ہزار تک فلسطينيوں کا قتل عام کيا تھا جن ميں عورتيں، زيادہ عمر کے لوگ اور چھوٹے بچے بھي شامل تھے -امريکا اور اس کے اتحادي بعض ديگر مغربي ملکوں کے حکام نے اس کي موت پر گہرے دکھ کا اظہار کيا ہے.

.......

/169