11 جنوری 2014 - 20:30
روضہ مبارک سيدہ زينب(س) ميں منقعدہ اجلاس ميں بشار اسد کي حکومت کي حمايت

شام کے قبا‏ئلي عمائدين اور سياسي گروہوں کے نمائندوں نے دمشق کے نواحي علاقے ميں واقع سيدہ زينب سلام اللہ عليہا کے روضہ مبارک ميں منقعدہ اجلاس ميں ملک کے موجودہ سياسي ڈھانچے اور آئندہ انتخابات ميں صدر بشار اسد کے بطور اميدوار نامزد کئے جانے کي حمايت کا اعلان کيا ہے-

ابنا: اجلاس کے شرکاء نے  دہشتگردي کے مقابلے ميں باہمي اتحادو يکجہتي کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا ہے کہ تکفيري دہشتگردوں کے خلاف بھرپور جنگ پوري قوم کا مشترکہ مطالبہ ہے-دمشق کے جرمانا نامي علاقے کے دروز رکن پارليمنٹ عبد اللطيف کرباشي نے کہا کہ شام کے تمام طبقات حکومت کے ساتھ ہيں اور حکومت اکيلي نہيں ہے اور جنيوا دو کانفرنس ميں پوري قوت کے ساتھ ملک کا دفاع کرے گي-بحران شام کے سياسي حل کے لئے جنيوا دو کانفرنس بائيس جنوري کو سوئزرلينڈ  ميں ہوگي –  شام کي حکومت شروع ہي سے ملک ميں جاري بحران کو سياسي طريقے سے حل کئے جانے کي ضرورت پر زور ديتي چلي آئي ہے- ليکن اسرائيل اور خطے کي بعض حکومتيں  مغربی ملکوں کے تعاون سے شام ميں لڑنے والے دہشتگردوں کو اسلحہ اور فوجي سازو سامان فراہم  کر رہي ہيں-اقوام متحدہ ميں شام کے مستقل نمائندے بشار جعفري نے اپنے حاليہ بيان ميں کہا ہے کہ شامي عوام کے قتل عام ميں سعودي عرب کا کردار کسي سے پوشيدہ نہيں ہے-سن دوہزار گيارہ ميں بحران شام کے آغاز سے اب تک دہشتگردوں کے حملے ميں کئي ہزار عام  شہري جانبحق اور لاکھوں کي تعداد ميں بے گھر ہوئے ہيں-    تازہ خبروں ميں کہا جارہا ہے کہ شام کے اندر   موجود دہشتگرد گروہوں  کے درميان اختلافات اور جھڑپيں شدت اختيار کرگئي ہيں-  رپورٹ کے مطابق  نام نہاد فري سيرين آرمي نے  ادلب کے نواحي علاقے سے ايک اور دہشتگرد  گروہ  دولت الاسلاميہ في العراق والشام کے سو  سے زائد  دہشتگردوں کو گرفتار کرليا ہے-فريقين کے درميان ہونے والے مسلح جھڑپوں ميں دونوں گروہوں کے درجنوں دہشتگرد بھي مارے گئے ہيں-بعض ذرائع نے بتايا ہے کہ شامي حکومت کے مخالف مختلف  دہشتگرد گروہوں کے درميان ہونے والي باہمي جھڑپوں ميں اب تک پانچ سو کے قريب دہشتگرد مارے جاچکے ہيں-     ادھر شامي ٹيلي ويژن نے خبر دي ہے کہ شامي فوج کے ساتھ جھڑپوں ميں کم از کم آٹھ سو کے قريب سعودي دہشتگرد مارے گئے ہيں-شامي ٹيلي ويژن کے مطابق شامي فوج کے ساتھ لڑائي ميں مختلف ملکوں کے سيکڑوں دہشتگرد مارے جاچکے ہيں، رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ شام ميں اس وقت دنيا کے تراسي ملکوں کے دہشتگرد حکومت اور عام شہريوں کے خلاف حملے کرر ہے ہيں ۔

.......

/169