اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سلفیوں کے مشترکہ محاذ "جبہۃالاسلامیہ"، اور دوسری دہشت گرد تنظیموں نے داعش کے ساتھ اختلافات اور داعش کی طرف سے پچاس افراد کے قتل عام کے اعلان کی بنا پر حلت کے علاقے میں اس گروہ کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے انہيں اس علاقے سے مار بھگایا تاہم جنگ ابھی تک مختلف علاقوں میں جاری ہے اور اب تک 500 سے زائد افراد مارے گئے ہیں جن میں زیادہ تر ہالکین کا تعلق جبہۃالاسلامیہ سے بتایا گیا ہے جبکہ داعش کے تقریبا 200 دہشت گرد بھی کام آئے ہیں۔ گو منگل کے روز داعش نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک اسپتال میں 50 خبرنگار قتل کردیئے ہيں لیکن اسپتال سے 40 لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ مقتولین میں سے متعدد کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔ القاعدہ کی ذیلی تنظیم جبہۃالنصرہ نے داعش کے خلاف اس جنگ میں جبہۃالاسلامیہ اور نام نہاد آزاد شامی فوج کے ساتھ تعاون کیا تھا اس کے باوجود اس دہشت گرد ٹولے کے سرغنے ابومحمد الجولانی نے ایک صوتی کلپ میں جبہۃالاسلامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اختلافات کو بھول جائے اور جنگ بندی کا اعلان کرے اور مبصرین کا خیال ہے کہ گویا داعش کو مطلوبہ نقصانات پہنچائے جاچکے ہیں اور الجولانی فکرمند ہےکہ داعش کا مکمل خاتمہ سرکاری افواج کے مقابلے میں شام مخالف دہشت گرد تنظیموں کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے، اور پھر کہا جاتا ہے کہ ان لڑائیوں میں داعش کی شکست کا نتیجہ جبہۃالاسلامیہ کی فتج کی صورت میں برآمد ہوسکتا ہے جو جبہۃالنصرہ کے لئے زیادہ خوشایند نہیں ہے چنانچہ اب الجولانی اس جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ واضح رہے کہ بعض ذرائع کے مطابق داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں کئی ڈاکٹر بھی شامل تھے۔ ابنا نے چند روز قبل ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ داعش نے 50 خبرنگاروں کا قتل عام کیا ہے؛ لنک ملاحظہ ہو:نہتےسپاہیوں کے لئے ایک المیہ اور؛تکفیری دہشت گرد تنظیم داعش نے 50 صحافیوں کو قتل کیا/ تفصیلی رپورٹسCLICKآج معلوم ہوا ہے کہ داعش نے مختلف محاذوں پر شکست کھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ذرائع نے حلب میں شفاخانہ اطفال میں داعش کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کو صحافیوں اور ڈاکٹروں کا اجتماع قتل قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق داعش نے ایسے درجنوں نامہ نگاروں اور ڈاکٹروں کے اجتماعی قتل کا ارتکاب کیا ہے جس اس تکفیری دہشت گرد ٹولے کے قبضے میں تھے اور حلب کے علاقے قاضی عسکر کے چلڈرن ہسپتال میں قید کئے گئے تھے۔ باخبر ذرائع نے ان افراد کو فیلڈ شوٹنگ کی صورت میں گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ دریں اثناء حلب میں دہشت گرد ٹولوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور چھ مہینوں سے جاری محاصرے کے بعد داعش کا زیر قبضہ پولیس مرکز "الصالحین" پر مخالف دہشت گردوں کے قبضے میں چلا گیا ہے اور اس مرکز میں تعینات داعش کے 100 غیر شامی دہشت گردوں نے "جیش المجاہدین" کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ جبکہ ان ٹولوں کے درمیان لڑائی میں فریقین کے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور علاقے کے عوام میں سے بھی کئی افراد فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آج شام تک قاضی عسکر میں داعش کے اہم ترین ہیڈ کوارٹر کے قریب داعش اور مخالف تنظیم جبہۃالاسلامیہ کے درمیان مذاکرات ہورہے تھے جہاں داعش کے درجنوں افراد تعینات ہیں جن کی اکثریت غیر ملکیوں کی ہے اور مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ داعش کے دہشت گرد ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو جیش المجاہدین اور جبہۃالاسلامیہ کی تحویل میں دے دیں۔ واضح رہے کہ داعش عراق اور شام میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم کے طور پر لڑرہی تھی لیکن ایمن الظواہری نے اس کو ہدایت کی تھی کہ اپنے ہتھیار اور ٹھکانے القاعدہ کی شامی شاخ جبہۃالنصرہ کے حوالے کرکے اپنی سرگرمیاں عراق تک محدود رکھے لیکن شامی داعش نے بغاوت کردی جس کا اس کو خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے جبکہ عراق میں بھی اس کو شدید ترین نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ دریں اثناء حلب کے علاقے قاضی میں داعش کو دو روز قبل فیصلہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وقت المجہ کے علاقے میں لڑائی ہورہی ہے جہاں داعش کے 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حلب کے نواح میں داعش اور جبہۃالاسلامیہ و جیش المجاہدین نامی دہشت گرد سلفی تنظیموں کے درمیان لڑائی زیادہ شدید تھی جہاں جنوبی نواحی علاقے جرابلس اور کفر حلب میں داعش نے اپنے ٹھکانے چھوڑ دیئے ہیں اور مخالف تنظیموں نے ان کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ حلب کے مشرقی نواحی علاقے "صرین" میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر مخالف تنظیموں نے قبضہ کرلیا ہے حالانکہ اس علاقے میں قابل ذکر جھڑپیں بھی نہيں ہوئیں۔ ادھر حلب کے شمالی نواحی قصبوں "احرص" اور "معرستہ" میں ہونے والی جھڑپوں میں داعش کے 25 دہشت گرد مارے گئے اور اور اپنے ٹھکانے مخالف تنظیموں کے لئے خالی کرکے باقی ماندہ افراد فرار ہوگئے۔ دوسری طرف سے دہشت گرد تنظیموں کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ جبہۃالاسلامیہ و جیش المجاہدین کے سینکڑوں مسلح عناصر الباب کے سرحدی قصبے کے قریب "تادف" نامی قصبے میں داخل ہوئے ہیں اور وہاں داعش اور ان تنظیموں کے درمیان شدید جھڑپیں ہورہی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شام دشمن تنظیموں کی باہم لڑائی کے نتیجے میں اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 500 سے تجاوز کرگئی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ دہشت گرد تکفیری تنظیموں کی خود زنی (Self Hitting) کے بموجب اب تک پانچ متخاصم فریقوں کے 500 افراد کام آئے ہیں۔ شام مخالف تنظیموں کے ہمدرد ادارے "سیرین ہیومین رائٹس واچ" نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ داعش اور دوسری تنظیموں یعنی جبہۃالاسلامیہ اور جیش المجاہدین کے درمیان لڑی جانے والی ایک ہفتے سے جاری لڑائی میں اب تک ان فریقوں کے پانچ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سیرین ہیومین رائٹس واچ کے سربراہ "رامی عبدالرحمن" نے فرانس پریس کو بتایا کہ مارے جانے والے افراد میں جبہۃالاسلامیہ کے 240 اور داعش کے 157 افراد بھی شامل ہیں جبکہ ان تنظیموں کی لڑائی میں 85 عام اور نہتے شہری بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ شامی افواج ـ جو حلب میں دہشت گردوں کی باہم لڑائی پر نظر رکھے ہوئے ـ دمشق کے نواح اور دیر الزور وغیرہ میں پورے اطمینان سے پیشقدمی کررہی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
تصاویر:








