ابنا: صدر حامد کرزئي نے يہ بيان خود کش جيکٹ کے ساتھ گرفتار ہونے والي ايک دس سالہ بچي کي گرفتاري پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ديا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کا مستقبل بچوں سے وابستہ ہے اور انہيں خود کش حملوں ميں استعمال کرنے کے بجائے ان کي تعليم و تربيت کا راستہ ہموار کرنے کي ضرورت ہے۔ افغانستان کے صدر نے اس قسم کے اقدامات کوافغان ثقافت کے منافي قرار ديتے ہوئے طالبان سے کہا کہ وہ کم سن بچوں کو خودکش حملوں کے لئے استعمال کرنے سے گريز کريں۔ افغانستان میں ایک پولیس اسٹیشن کو خودکش بم دہماکے کے ذریعے اڑانے کے لئے طالبان کمانڈر نے اپنی دس سالہ بہن کو زبر دستی بارود سے بھری جیکٹ پہنا کر مورد نظر نشانے کے لئے روانہ کردیا، لیکن کمسن لڑکی نے خود کو دھماکے سے اڑانے کے بجائے پولیس کے حوالے کردیا۔ کابل سے ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق افغان پولیس کا کہنا ہے کہ ، اس مبینہ خودکش بمبار نے صوبہ ہلمند کے ضلع خان شین میں پولیس ہیڈکوارٹرزپر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اس بچی کو اس کے بھائی نے، جو طالبان تحریک کا لیڈر ہے، خودکش جیکٹ پہنا کر بھیجا تھا۔ اس بچی نے ایک ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس نے خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل پولیس کے حوالے کردیا۔ لڑکی نے کہا کہ میرے بھائی اور اس کے دوست نے مجھے بارود سے بھری جیکٹ پہننے پر مجبور کیا تھا اور میرے والد نے اس حملے کے لیے مجھے آمادہ کرنے کے لیے مجھے زد و کوب کیا تھا۔ لیکن آدھی رات کے وقت میں نے گھر سے فرار ہو کر علی الصباح خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ اس بچی نے رضاکارانہ طور پر خود کو صوبہ ہلمند میں اسی چیک پوائنٹ پر سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے، جہاں اس سے خودکش حملہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ افغان پولیس اس بچی کو خودکش حملے پر اکسانے اور مجبورکرنے والے انتہا پسند طالبان کمانڈر اور اس کے دوست کو تلاش کر رہی ہے۔
.......
/169